تصویر میں نظر آنے والا یہ موبائیل آج مؤرخہ 29 اگست کو شام میں ہمارے مسلم اُنّتی سیوا فاؤنڈیشن کے نائب صدر خالد sk صاحب کے 9 سالہ معصوم بھتیجے محمد التمش کو روڑ پر ملا تھا پھر محمد التمش نے موبائیل اٹھا کر اپنی امی کو لے جا کر دیا پھر ہمارے خالد بھائی تک موبائیل پہنچا پھر خالد بھائی نے اپنی ایمانداری کا ثبوت دیتے ہوئے موبائیل میں موجود نمبرات پر از خود کونٹیک کیا اور موبائیل کے مالک کو بلا کر بلا کسی فوٹو گرافی کے بغیر ان کا موبائیل ان کو دے دیا -
لہٰذا اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے خالد sk صاحب اور ان کے گھر کی مستورات سمیت گھر کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی کیسی تعلیم دی گئی ہے؟ لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ہم سب اسی طرح گھریلو یعنی گھر کے بڑوں سے لے کر چھوٹے چھوٹے بچوں تک ایمانداری کا جذبہ ہوں تو سوچوں اگر ہم اس طرح مشترکہ ایمان دارانہ زندگی گزاریں تو ہمارا معاشرہ کتنا پرسکون اور اچھا بن سکتا ہے، لہٰذا ضرورت ہے اس بات کہ ہم اسلامی تعلیمات کو اپناتے ہوئے ایماندارانہ طریقے سے زندگی گزاریں تو ان شاء اللہ دنیا اور دنیا کی عزت و دولت اور آخرت کی کامیابی بھی ہمارے قدم چومے گی مگر افسوس کچھ لوگ محض چند سکوں کیلئے اپنا ایمان خراب کر لیتے ہیں اور قدرت کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق انجام یہ ہوتا ہے کہ وقیہ عیش کے بعد پریشانی و مصبیت ان کا مقدر بن جاتی ہے، لہٰذا آپ ایمانداری کو ترجیح دیجئے، اللہ تعالیٰ آپ کی دین و دنیا دنوں ایسے سنوار دے گا کہ آپ بھی ہوش باختہ ہو جائیں گے ۔
