کھام گاؤں (واثق نوید) الفلاح ایجو کیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام جاری عبد الصمد اردو ہائی اسکول اینڈ بی ایڈ کالج رحمانیہ جونیئر کالج اور اردو جونیئر آف ایجوکیشن کنجہرہ تعلقہ کھام گاؤں میں منعقد ایک روزہ سیمنار میں اردو زبان و ادب پر مہمان معلم ماہر تعلیم ، غنی غازی نے طلباء وطالبات اور اسا تذہ کی رہنمائی کی محمد زکریا نے تلاوت قرآن پاک فرمائی زیان شاہ نے نعت پاک سنائی صبح کے سیشن کی صدارت ادارہ کے صدر عبد المجید عبد الصمد نے فرمائی اور مہمانوں کا استقبال کیا.
پرنسپل شیخ عارف نے تعارف اور غرض و غایت بیان کی یہ سیشن دسویں، گیارھویں بارھویں کے بچوں کے لئے مختص تھا جس میں غنی غازی نے اردو زبان کی حفاظت اور اسکی بنیادی معلومات کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے طلباء وطالبات کی ذہنی استعداد کے مطابق اردو زبان کی بولیاں، اردو کے معنی حروف تہجی ، حروف علت ،حروف صحیح لفظ اردو اس کا رسم خط صرف و نحو جس زبانوں سے مستعار ہے اسکی تفصیل بتائی اور باقاعدہ تختہ سیاہ پرتحرک کر دیا جسے بچوں نے اپنی بیاضوں میں نوٹ کیا۔
اس سیشن میں تقریبا ساڑھے تین سو طلباء وطالبات نے شرکت کی بعد ازاں طلباء کے سوالات کے جوابات دوسرے سیشن میں دیئے گئے تعلیمی اداروں کے صدر مدرسین اور اساتذہ نے شرکت فرمائی مہمان معلم غنی غازی نے اصناف اردو ادب کی تدریس کا آغاز کرتے ہوئے افسانوی اور غیر افسانوی نثر کی اصناف تختہ سیاہ پر لکھ کر ہر ایک کی تعریف نیز فرق سمجھایا بعد ازاں انھوں نے اصناف شاعری میں نظم اور غزل رباعی اور قطعہ آزاد نظم پابند نظم، نظم معر انثری نظم کے فرق اور اہمیت کو واضح کیا۔ غنی غازی نے تختہ سیاہ پر مرزا غالب کی مکمل غزل گوئی٫٫ کوئی امید بر نہیں آتی " لکھ کر قافیہ، دریف ، مطلع " ثانی مطلع ثالث مطلع، ربع مطلع، مقطع تخلص اور آخری شعر کی عملی طور پر فہمائش کی۔
اس کے بعد اساتذہ نے اصناف نثر کی مزید وضاحت چاہی تو غنی غازی نے اپنے تخلیق کردہ نثر نامے ـ۔ ٫٫سمندر کا دوہرا معیار ( انشائیہ ) عصمت بابا (خاکہ) تخته سیاہ بول پڑا ( سرگزشت) کتاب اور دیمک (مکالمہ ) تعلیم اور تربیت (مضمون) اور بسیرا میں صحافت کی صراحت ( رپورتاژ) پڑھ کر سنائے الفاظ کے انتخاب جملوں کی نشست و برخاست پُر لطف انداز بیان سے اساتذہ محفوظ ہوئے اس سیشن میں ضلع پریشد اردو مڈل اسکول لاکھن واڑہ کے وظیفہ یاب صدر مدرس محمد ابراہیم محمد اسماعیل کے علاوہ احسان اللہ شفع الله ( صدر مدرسین اور اسا تذہ موجود تھے
رسم شکر یہ معاون مدرس سید عمران نے ادا کی ۔۔ نظامت کے فرائض ثانیہ پروین (ڈی ٹی ایڈ ) نے انجام دیئے دونوں سیشن تقریبا ساڑھے تین گھنٹوں تک جاری رہے درمیان میں آدھے گھنٹہ کا وقفہ بھی دیا گیا۔ادارہ کے سربراہ عبدالمجیدعبدالصمد دونوں سیشن میں با نفسِ نفیس حاضر رہے۔

