کھام گاؤں (واثق نوید) آج کے دور میں جب شادی بیاہ کی تقریبات پر فضول اخراجات عام ہو چکے ہیں، ایک خاندان نے سادگی اور برکت کی شاندار مثال قائم کر دی۔
رسمِ منگنی کو عین موقع پر نکاح میں بدل کر ایک قابلِ ستائش روایت کی بنیاد رکھ دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق شہر اورنگ آباد کے ساکن شوکت قریشی کے فرزند محمد حذیف کا رشتہ بلڈھانہ ضلع کے دیولگھاٹ کے امن کالونی کے ساکن محمد نثار کی دختر نیک اختر بشریٰ ارم کے ساتھ طے پایا تھا ۔
10 فروری کو منگنی کی تقریب جاری تھی کہ دونوں خاندانوں نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ رشتے کو رسمی تاخیر میں ڈالنے کے بجائے فوراً نکاح کر لیا جائے۔ یوں ایک مختصر مگر بابرکت نکاح عمل میں آیا، جس میں سادگی اور اسلامی تعلیمات کو مکمل طور پر مدنظر رکھا گیا۔
خاندان کے بزرگوں اور بقر قصاب برادری کے مقامی ذمہ داران نے اس فیصلے کو بے حد سراہا اور کہا کہ یہ طرزِ عمل موجودہ مہنگائی اور فضول رسومات کے خلاف ایک بہترین مثال ہے۔
اس نکاح میں نہ مہنگے لباس کی نمائش ہوئی، نہ بے جا اخراجات، بلکہ سب کچھ اسلامی تعلیمات اور سادگی کے اصولوں کے مطابق انجام پایا۔
یہ تقریب ان افراد کے لیے بھی ایک عملی پیغام ہے جو شادی بیاہ کے نام پر قرض اور غیر ضروری اخراجات کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔
نکاح کی اس مبارک تقریب نے ثابت کر دیا کہ اگر نیت صاف ہو تو خوشیوں کے لیے فضول خرچی ضروری نہیں، بلکہ سادگی میں ہی اصل برکت ہے۔
