کھام گاؤں (واثق نوید) ایمانداری اور اخلاقیات کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی ایک مثال آج 16 مارچ کو بلڈانہ کے اقبال نگر سے سامنے آئی ہے،
جہاں ایک 10 سالہ بچی، جذا محمد اسماعیل نے دیانتداری کا اعلیٰ مظاہرہ کیا۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ جذا کو بازار میں راستے پر ایک بٹوا ملا، جس میں نقد رقم، تین مختلف بینکوں کے اے ٹی ایم کارڈز، آدھار کارڈ اور دیگر ضروری دستاویزات موجود تھیں۔ جذا نے فوراً اپنے ماموں وسیم خان کو اس بارے میں اطلاع دی اور کہا کہ وہ یہ بٹوا اس کے اصل مالک کو واپس کرنا چاہتی ہے۔
بعد ازاں، جب یہ بٹوا پانی سپلائی افسر پاور صاحب کو واپس کیا گیا تو انہوں نے ایمانداری سے متاثر ہو کر جذا کو ہزار روپے انعام دینے کی پیشکش کی،
مگر جذا نے انعام لینے سے انکار کر دیا۔ اس نے صاف کہا، "یہ بٹوا آپ کا تھا، تو انعام لینے کا کیا مطلب؟"
یہ واقعہ اس کے بہترین اخلاق اور گھریلو تربیت کا نتیجہ ہے، جہاں اس کے والدین نے اسے سچائی اور ایمانداری کے اصول سکھائے ہیں۔ جذا کے والد بلڈانہ کے مرزا نگر میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ سادہ زندگی گزارنے کے باوجود، ان کے خاندان میں ایمانداری اور اخلاقی قدریں نمایاں ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمانداری اور اخلاقیات کسی خاص طبقے یا حیثیت کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ یہ وہ اصول ہیں جو ہمیں بچپن سے ہی سیکھنے اور اپنانے چاہئیں، تاکہ ہم ایک اچھے اور دیانتدار شہری بن سکیں۔



