دھولیہ ، ایک سادہ فیصلہ، دو خاندانوں کی خوشی نکاح کو مشکل بنانے والوں کے لیے عملی جواب
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 12, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) مسلم سماج میں سادگی، اعتدال اور فضول رسم و رواج سے پاک نکاح کے فروغ کے لیے مسلم پرسنل لا کی جانب سے چلائی جا رہی مہم اب ثمر آور ثابت ہو رہی ہے۔ اس کے مثبت اثرات مختلف علاقوں میں عملی صورت میں سامنے آ رہے ہیں، جہاں نکاح کو آسان، بابرکت اور سنت کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے۔ ایسا ہی ایک قابلِ ستائش اور قابلِ تقلید واقعہ 5 جنوری 2026 کو پیش آیا۔ کھام گاؤں کے برڈے پلاٹ کے ساکن شیخ شاکر کے فرزند محمد کاشف کا رشتہ دھولیہ کے عیدگاہ علاقے کے رہائشی شیخ رئیس کی دخترِ نیک اختر کے ساتھ طے پایا تھا۔ شادی کی تاریخ طے کرنے کی غرض سے دلہے کے اہلِ خانہ 5 جنوری کو دھولیہ پہنچے، جہاں دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی سے اسی ملاقات کو عقدِ نکاح میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ اسی روز رات تقریباً 10 بجے عیدگاہ مسجد میں نہایت سادگی کے ساتھ، محدود افراد کی موجودگی میں عقدِ نکاح انجام پایا۔ کسی قسم کی غیر ضروری رسومات، دکھاوے یا فضول اخراجات کے بغیر انجام پانے والے اس نکاح نے حاضر ین کے دلوں پر خوشگوار اثر چھوڑا۔ اس بابرکت اور سادہ عقدِ نکاح پر دونوں خاندانوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی، جب کہ سماجی حلقوں میں بھی اس اقدام کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔ عوام الناس اس نکاح کو موجودہ دور میں نکاح کو مشکل بنانے کے رجحان کے خلاف ایک عملی اور مؤثر مثال قرار دے رہے ہیں۔ لوگ بڑی تعداد میں دولہا دلہن کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں اور ان کے لیے خوشگوار، پُرسکون اور بابرکت ازدواجی زندگی کی دعائیں کی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ یہ نکاح مسلم معاشرے کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ سادگی، اخلاص اور بروقت فیصلہ ہی حقیقی خوشی اور برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔