رہ کے دنیا میں نہیں بشر کو زیبا غفلت۔ موت کا بھی دھیان لازم ہے کہ ہر آن رہے۔ جو بشر آتا ہے دنیا میں یہ کہتی ہے قضاء۔ میں بھی پیچھے چلی آتی ہوں ذرا دھیان رہے۔ ازقلم حافظ عقیل احمد ملی قاسمی ترجمان وفاق المدارس والمکاتب مالیگاؤں۔
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 12, 2026
0
share
ابھی ابھی یہ افسوس ناک اطلاع موصول ہوئی کہ حضرت مولانا سعید احمد ملی قاسمی رحمۃ اللہ علیہ بقضائے الٰہی اس دنیا سے تشریف لے گئے انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا موصوف رحمۃاللہ علیہ ہمارے بزرگ اور لائق تعظیم استاد محترم تھے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم لوگوں نے ان سے فارسی زبان کی کتاب شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی گلستاں اور ہدایہ اولین پڑھی ہے۔ وہ معھد ملت کے ابتدائی زمانے کے فارغین میں سے تھے اور معھد سے فراغت کے بعد دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور وہاں سے بھی فضیلت حاصل کی اس کے بعد معھد ملت میں استاد مقرر ہوئے اور نصف صدی سے زائد کا زمانہ استقامت کے ساتھ گذار کر تادم حیات معھد ہی سے وابستہ رہے۔ تدریس کے ساتھ ساتھ وہ معھد ملت کے زیرِ اہتمام جاری دارالقضاء کے نائب قاضی بھی تھے اور گذشتہ چند سالوں تک معھد ملت کے صدر المدرسین بھی رہے اس کے بعد معھد ملت کے زیرِ اہتمام جاری لڑکیوں کے مدرسہ جو فی الحال معھد ملت کی قدیم عمارت رسول پورہ میں جاری ہے وہاں کے مکمل ذمہ دار ٹرسٹیان معھد کے فیصلے سے متعین کئے گئے اور تادم حیات اس ذمہ داری کو بھی بحسن وخوبی نبھایا اور اپنی مادر علمی سے وفاداری کا وہ ثبوت دیا جس سے بڑھ کر کوئی دوسرا ثبوت نہیں دیا جا سکتا ہے۔ حضرت مولانا موصوف رحمۃاللہ علیہ ایک مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامل مربی بھی تھے اور وہ تربیت کے ایسے ہنر جانتے تھے جنھیں آج اپنانے کی سخت ضرورت ہے وہ مارپیٹ اور سختی کے گویا بالکل قائل نہیں تھے مگر احساس ذمہ داری ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور یہی احساس ذمہ داری ان کی تربیت کا طریقہ تھا کہ وہ ازخود ہمیشہ وقت سے پہلے مدرسہ تشریف لاتے تو ظاہر ہے طلباء بھی لازماً وقت کے پابند ہوجاتے تھے اسی طرح وہ سال بھر میں کبھی کبھی ایک یا دو دن رخصت لیا کرتے تھے اور کسی سال وہ بھی نہیں تو طلباء بھی لازماً حاضری کے پابند ہوجاتے تھے اسی طرح وہ ہر روز پابندی سے سبق پڑھایا کرتے تھے اور وہ بھی پوری طرح مطالعہ کرکے دلچسپی اور دلجمعی کے ساتھ درس دیا کرتے تھے تو طلباء کو یہی سیکھنے کو ملتا تھا کہ درس پوری ذمہ داری سے دینا چاہیے اسی طرح اگر کسی دن دارالقضاء کی مصروفیت کچھ زیادہ ہوجانے کی وجہ سے مطالعہ نہیں ہوسکتا تھا تو اس دن درس نہیں دیا کرتے تھے مگر پورا وقت کلاس میں ضرور حاضر رہتے تھے اور طلباء کو مطالعہ وغیرہ میں مصروف رہنے کی تلقین کردیا کرتے تھے اس کے بعد وہ خود بھی اپنے کاموں میں مصروف ہوجایا کرتے تھے اور گھنٹہ مکمل ہونے کے بعد ہی کلاس سے تشریف لے جاتے تھے اس میں طلباء کے لئے تربیت کا پہلو یہی ہوتا تھا اگر مطالعہ نہ ہوسکے تو درس نہ دیا جائے مگر کلاس میں حاضر ضرور رہا جائے اور اپنی وہ ذمہ داری جو منجانب مدرسہ سونپی گئی ہے اسے ادا کیا جائے۔ ان کا علم بہت پختہ تھا اور وہ بڑے باصلاحیت عالم دین تھے مگر اس کے باوجود بغیر مطالعہ کے درس نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت مولانا موصوف رحمۃاللہ علیہ کسر نفسی اور شرافت کا سراپا مجسم تھے خاموشی کو پسند کرتے تھے ان کی سادگی کا عالم یہ تھا کہ پہلی نظر میں کوئی آدمی نہیں پہچان سکتا تھا کہ یہ اتنے بڑے عالم دین ہیں بلاوجہ بحث مباحثہ حجت تکرار وغیرہ کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ انھیں زندگی بھر میں یہ سب کرتے ہوئے کسی نے دیکھا بھی نہیں لیکن وہ ایک حق گو انسان تھے جب حق بات کہنے کی نوبت آتی تو پھر کسی کی پرواہ کئے بغیر براہ راست منہ پر کہتے اور ڈٹ کر کہتے تھے۔ تمام طلباء کو ایک نظر سے دیکھا کرتے تھے انصاف کا معاملہ کیا کرتے تھے دل کے صاف تھے اپنے دل میں کسی کے متعلق کینہ حسد جلن وغیرہ بالکل نہیں رکھتے تھے۔ اسی طرح وہ تقوی و پرہیزگاری اور عبادت ریاضت میں بلند پایہ رکھنے والے انسان تھے۔ حضرت مولانا موصوف رحمۃاللہ علیہ کا وصال یہ صرف معھد ملت اور معھد سے وابستہ فارغین کا ہی نہیں بلکہ یہ ملت اسلامیہ کا ایک عظیم خسارہ ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں ہم صدر و اراکین شاہ ولی اللہ اکیڈمی مالیگاؤں حضرت مولانا رحمۃاللہ علیہ کے تمام رشتے داروں کے ساتھ ان کے غم میں برابر کے شریک اور انہیں صبر و رضا کی تلقین کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے حضور دعاء کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے ان کی سیئات سے درگذر فرمائے ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ علیین میں انھیں مقام عطاء فرمائے جملہ متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔ دعاء گو صدر و اراکین شاہ ولی اللہ اکیڈمی مالیگاؤں۔