علم و قلم کا تاریخی جشن اکابرینِ ملت کی موجودگی میں ۱۱ گرانقدر کتب کی رونمائی، عوامی جوش و خروش دیدنی
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 31, 2026
0
share
مالیگاؤں (پریس ریلیز)علم و آگہی کی بستی مالیگاؤں میں ۲۸ جنوری ۲۰۲۶ء بروز بدھ کی شام خوشبوئے علم سے معطر ایک ایسی تاریخی نشست منعقد ہوئی جس نے شہر کے علمی افق پر ایک نئی اور روشن لکیر کھینچ دی ہے، بنکر لانس (انصار جماعت خانہ) میں خانقاہ رحمانیہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس عظیم الشان تقریب میں شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب (سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ و سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) کی شبانہ روز فکری ریاضتوں کے نتیجے میں تیار کردہ گیارہ گرانقدر کتب کا رسمِ اجراء عمل میں آیا،
اس تقریب کو دیکھنے کے لیئے لنک کو کلک کریں ۔آپ سے درخواست ہے ثناء نیوز پورٹل کی لنک کو واٹس اپ گروپ اور سوشل میڈیا پر ضرور سینڈ کریں ۔پیشگی شکریہ
اس تاریخی بزم کی صدارت بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا محمد ادریس عقیل ملی صاحب (شیخ الحدیث معہد الملت) نے فرمائی، محفل میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹک، گجرات، بہار اور ریاستِ مہاراشٹر کے طول و عرض بشمول جلگاؤں، دھولیہ، اورنگ آباد، لاتور، پربھنی، ہنگولی، احمد نگر، نیواسہ ،پونہ، آکولہ اور ممبئی سے تشریف لائے ہوئے مشاہیرِ علم و دانش، اکابرینِ ملت اور سینکڑوں محبانِ علم و آگہی نے شرکت کر کے اسے ایک ہمہ گیر اجتماع کی صورت عطا کر دی، ان گیارہ شاہکار کتب کا اجراء مختلف اکابرین اور ممتاز اہل قلم حضرات کے مبارک ہاتھوں سے عمل میں آیا، اس موقع پر نامور مقررین نے اپنے فکر انگیز بیانات میں مصنف کی بے پناہ محنت و کاوش، کئی متضاد صلاحیتوں میں بیک وقت مہارت، اور علم میں پختگی و رسوخ کا کھلے دل سے اعتراف کیا، انہوں نے واضح کیا کہ حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی شخصیت علم و عمل، شریعت و طریقت اور فکر و کردار کا وہ حسین امتزاج ہیں جو عصرِ حاضر کے سماجی و اخلاقی بگاڑ میں ہدایت اور راہ نمائی کا ایک روشن مینار ہے،
اکثر کتابیں انہوں نے اپنے مرشد کے حالات ، کمالات ، ارشادات اور ان کے اصلاحی اور علمی افادات پر لکھی ہیں جن میں مرشد کے اندازِ تربیت، ان کی فراست، قوم و ملت کے تئیں ان کی فکری مندی اور تصوف و سلوک میں ان کے اعلیٰ مقام کا تذکرہ ہے، کچھ کتابیں سالکین کی رہنمائی کے لیے لکھی گئی ہیں جبکہ بعض میں ان کے اساتذہ اور اہل تعلق کا گہر بار تذکرہ موجود ہے، اسی مطالعہ کی سرگذشت بھی تحریر کی ھے جو زبان وادب کا شہ پارہ ھےحضرت مصنف کی ان علمی کاوشوں کے پیچھے وہ انتھک محنت پوشیدہ ہے جس کے دوران آپ نے کئی راتیں بیدار رہ کر عشاء سے صبح دس بجے تک مسلسل لکھنے کا معمول بنائے رکھا، اسفار کی تھکن، ریلوے کے ہنگامے، ہوائی جہاز کی پروازیں اور کار کے پُر مشقت زمینی سفر بھی آپ کے علمی ذوق کی راہ میں حائل نہ ہو سکے، آپ ہمہ وقت ان کتب کی تصحیح، ترتیب اور املا میں مصروف رہے، ان تصانیف کی تبویب اور کمپوزنگ کے کٹھن مراحل میں خونِ جگر صرف کرنے والے مخلصین کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی، سامعین کے بے پناہ اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے پہلے انتہائی توجہ اور ذوق کے ساتھ بزرگ علماء کے بیانات سماعت کیے اور پھر بڑے شوق سے کتابیں خریدیں، اپنی لائبریریوں، دینی اداروں اور کتب خانوں کے لیے کثیر تعداد میں کتب بک کروائیں، بعض مخیر و علم دوست حضرات نے ان علمی جواہر کی قدر دانی کرتے ہوئے انہیں اعزازی رقم دے کر خریدا، تقریب کے دوران اجراء کمیٹی کے اراکین اور متوسلینِ خانقاہ کی منظم جدوجہد کو سراہا گیا۔ جن کی بدولت یہ تقریب کامیابی سے ہمکنار ہوئی، خواتینِ اسلام کے لیے کیے گئے علیحدہ اور باپردہ نظم نے بھی اس علمی بزم کو سماج کے ہر طبقے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، علم دوست احباب کے لیے یہ گیارہ کتب اب مکتبہ فیضانِ ولی پر دستیاب ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبرات 9175829183 اور 9028138105 پر رجوع کیا جا سکتا ہے تاکہ علم و حکمت کے اس تازہ ترین ذخیرے سے اپنے گھروں اور لائبریریوں کو منور کیا جا سکے۔