تبصرہ بر کتاب: رہبر فن خطابت مصنف: شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم صفحات :۲۵۴ شائع کردہ :مکتبہ فیضان ولی تبصرہ نگار : مفتی محمد عامر یاسین ملی(امام وخطیب مسجد یحییٰ زبیر)
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 28, 2026
0
share
تقریر و خطابت کا فن اللہ پاک کی عطا کردہ ایک خصوصی نعمت ہے، جس کے ذریعے بندے کے لیے اپنے دلی جذبات و احساسات کا عمدہ طریقہ پر اظہار ممکن ہوتا ہے، اسی کے سہارےدعوت و تبلیغ اور اصلاح معاشرہ جیسی اہم ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی نبھایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ معلمین، واعظین، ائمہ اور مبلغین کیلئے اس وصف سے متصف ہونا ضروری ہے، تقریر و خطابت ایک فن ہے جس کے لیے جہاں زبان و بیان پر اچھی قدرت ہونا چاہیے، وہیں اس فن میں مہارت اور کمال پیدا کرنے کے لیے اسے باضابطہ سیکھنا اور مسلسل مشق کرنا بھی ضروری ہے،
دیکھا یہ گیا ہے کہ بیشتر افراد فن خطابت کو باضابطہ سیکھنے اور اس کے اصول و آداب معلوم کرنےکا اہتمام نہیں کرتے اور دیکھا دیکھی اور سناسنی تقریر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریر و خطابت کا کوئی خاص اثر مجمع پر دکھائی دیتا ہے اور نہ وعظ و بیان کے وہ نتائج سامنے آتے ہیں، جو مطلوب ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مقررین و واعظین اس فن کو باضابطہ سیکھنے کا اہتمام کریں ،اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے چند سال پہلے مسجد لبیب انوری مالیگاؤں میں خانقاہ رحمانیہ کے زیرِ اہتمام دس روزہ خطابت کلاس رکھی گئی تھی، جس میں بڑی تعداد میں مقامی اور بیرونی علماء کرام، ائمہ مساجد اور عصری تعلیم یافتہ افراد نے شرکت کی تھی۔اس کلاس میں ملک کے معروف عالم دین اور مشہور خطیب حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے مرتب، آسان اور دلچسپ انداز میں تقریر و خطابت کے اصول و آداب اور مقررین کے اوصاف بیان فرمائے تھے۔ جب یہ کلاس مکمل ہو گئی تو یہ مطالبہ ہوا کہ اس سلسلے میں کوئی کتاب بھی شائع کردی جائے چنانچہ اس مطالبہ کی تکمیل ایک کتاب کی شکل میں کی گئی جو "کامیاب مقرر بنئے" کے عنوان سے شائع ہوئی، اور تھوڑے عرصے میں ہی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئی تھی۔اب مزید ترمیم و اضافے اور نظرثانی کے بعد یہ کتاب "رہبر فن خطابت" کے نام سے شائع کی گئی ہے۔ کتاب میں مصنف نے تقریر و خطابت کے اصول و آداب اور مقررین و واعظین کے اوصاف و کمالات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ خطابت کی تاریخ اور باکمال خطیبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ خطابت بھی بتایا ہے۔ کتاب کے اخیر میں مقررین کیلئے رہنما ہدایات درج ہیں مثلاً: موضوع کا درست انتخاب کرنا۔ تقریر کا آغاز مؤثر انداز میں کرنا۔ گفتگو کو آیات و احادیث، مستند واقعات، اور خوبصورت اشعار سے مزین کرنا۔ مشکل الفاظ اور تہذیب سے گری ہوئی بات سے گریز کرنا۔ مکمل پیغام سنا کر طے شدہ وقت میں ہی اپنی تقریر مکمل کرنا۔ یہ وہ رہنما ہدایات ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے تقریر محض ایک رسم بن کر رہ جاتی ہے۔اسی طرح کتاب میں خوبصورت اور عمدہ اشعار بڑی تعداد میں جمع کردیے گئے ہیں ،اس کے علاوہ ان الفاظ کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جن کے تلفظ میں عموماً غلطی ہوجاتی ہے ۔کوئی شبہ نہیں کہ ظاہری اور باطنی خوبیوں سے مالامال اور اپنے عنوان کے لحاظ سے انفرادی اہمیت کی حامل اس کتاب کی اشاعت ایک اہم ضرورت کی تکمیل ہے، علماء کرام، ائمہ مساجد، مدارس اور اسکول کے ٹیچرزاور طلبہ و طالبات نیز تعلیمی، تبلیغی اور اصلاحی سرگرمیوں سے منسلک افراد کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔امید ہے کہ اس کے ذریعے ان کے طرز خطابت میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوگی اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے ،ان شاء اللہ میں حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی مدظلہ اورمکتبہ فیضان ولی کے اراکین کو اس کتاب کی اشاعت پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے نفع کو عام اور تام فرمائے۔( آمین) نوٹ: مورخہ ۲۸؍جنوری بروز بدھ بعد نماز عشاء فوراً بنکر لانس(انصار جماعت خانہ مشرقی اقبال روڈ ،مالیگائوں) میں منعقد ہونے والی عظیم الشان تقریب اجراء میں اس کتاب کا اجراء عمل میں آئے گا۔