یروشلم ۔ 20 مارچ (ایجنسیز,سیاست) اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کو نماز عید ادا کرنے سے روک دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 1967 کے بعد پہلی بار رمضان کے اختتام پر مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند رکھا گیا اور فلسطینیوں کو نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا۔ یروشلم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز نے عید کے موقع پر مسجدِ اقصیٰ کے اطراف غیر معمولی سیکیورٹی سخت کر دی اور متعدد داخلی راستوں کو بند کر دیا۔ اس دوران ہزاروں فلسطینی مسلمانوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جس کے باعث وہ نمازِ عید ادا نہ کر سکے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں نے مختلف علاقوں سے آنے والے نمازیوں کی سخت تلاشی لی اور کئی افراد کو زبردستی واپس بھیج دیا۔ بعض مقامات پر جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں، جہاں فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا۔فلسطینی رہنماؤں اور مذہبی شخصیات نے اس اقدام کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بار بار ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عبادت گاہوں تک رسائی ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔مسجدِ اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جہاں دنیا بھر کے مسلمان عبادت کیلئے خصوصی عقیدت رکھتے ہیں۔ عید جیسے اہم موقع پر وہاں نماز کی ادائیگی سے روکنا نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔