اردو اسکولوں کے لیے علیحدہ تعلیمی توسیعی افسران کی تقرری کا مطالبہ زور پکڑ گیا
Author -
personحاجی شاھد انجم
مارچ 18, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) ریاست مہاراشٹر میں اردو میڈیم اسکولوں کے لیے علیحدہ تعلیمی توسیعی افسر (A.D.I) مقرر کرنے کا دیرینہ مطالبہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
مہاراشٹر راجیہ اردو شکشک سنگھٹنا کی جانب سے اس سلسلے میں ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو باضابطہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے فوری توجہ کی اپیل کی گئی ہے۔
مکتوب میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ریاستی اسمبلی میں سوال نمبر 4528 کے تحت اس اہم مسئلہ کو اٹھایا جا چکا ہے، جس پر متعدد اراکین اسمبلی نے بھی حکومت کی توجہ مبذول کرائی، تاہم اس کے باوجود اردو اسکولوں کے لیے علیحدہ تعلیمی توسیعی افسران کی تقرری کا مسئلہ اب تک حل طلب ہے۔
تنظیم نے اپنی عرضداشت میں 16 جنوری 2006 کو منعقدہ ریاستی سطح کی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں اردو اسکولوں کے مسائل پر تفصیلی غور و خوض کے بعد حکومت کو ایک جامع رپورٹ پیش کی گئی تھی۔
اس کے بعد 30 جنوری 2006 کو محکمہ تعلیم کی جانب سے باضابطہ احکامات بھی جاری کیے گئے تھے، جن میں ہر ضلع میں اردو اسکولوں کے لیے مخصوص عہدوں کی منظوری کا ذکر تھا،
لیکن افسوس کہ ان احکامات پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ مزید برآں، تنظیم نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ریاست کے کئی اضلاع میں اردو میڈیم اسکولوں کی معقول تعداد موجود ہونے کے باوجود ان کے لیے علیحدہ تعلیمی نگرانی کا کوئی مؤثر نظام نہیں ہے، جس کے باعث تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس سلسلے میں تنظیم کے بانی و ریاستی صدر ایم اے غفار گزشتہ 2006 سے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ حال ہی میں اس مسئلہ کو رکن قانون ساز کونسل وجاہت مرزا کے سامنے بھی پیش کیا گیا، جس پر انہوں نے اسمبلی اجلاس میں آواز اٹھائی۔ نتیجتاً ریاستی حکومت نے 10 مارچ کو ایک مکتوب جاری کرتے ہوئے تمام ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹو افسران سے اس ضمن میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ تنظیم نے اپنے مطالبات میں واضح کیا ہے کہ ہر ضلع میں اردو اسکولوں کے لیے علیحدہ تعلیمی توسیعی افسر مقرر کیے جائیں، خالی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے اور اردو اساتذہ کو ان کے جائز حقوق فراہم کیے جائیں۔ آخر میں تنظیم نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حکومت کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کریں، تاکہ اردو تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، اگر اس مطالبہ پر عملی پیش رفت ہوتی ہے تو ریاست میں اردو میڈیم اسکولوں کے تعلیمی معیار کو نمایاں فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔