اردو اکیڈمی انعام یافتہ مصنفین کے اعزاز میں پُروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد ، ادب نواز حضرات سے شرکت کی پر خلوص گذارش
Author -
personحاجی شاھد انجم
مارچ 29, 2026
0
share
مالیگاؤں : (نامہ نگار) دبستانِ اُردو کی خوشبو سے مہکتا ہوا شہر مالیگاؤں ایک بار پھر ادب و ثقافت کی روشنیوں میں نہانے جا رہا ہے، جہاں مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے کتابوں پر انعام یافتہ مقامی قلم کاروں کے اعزاز میں ایک باوقار اور یادگار استقبالیہ تقریب کا انعقاد عمل میں آ رہا ہے۔
یہ تقریب نوبل ایجنسیز، للے چوک مالیگاؤں میں انجمن محبان اُردو کتب کے اشتراک سے 29 مارچ 2026 بروز اتوار رات 10 بجے منعقد ہوگی، جس میں شہر کے ممتاز ادباء، شعراء، دانشوران اور اُردو سے محبت رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
مالیگاؤں جو ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، اس بار بھی اپنے آٹھ درخشاں ستاروں کی کامیابی پر فخر محسوس کر رہا ہے، جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور ادبی کاوشوں کے ذریعے نہ صرف شہر بلکہ ریاستی سطح پر اپنی شناخت قائم کی۔
سال 2023 کے لیے جن معزز قلم کاروں کو انعامات سے نوازا گیا، ان میں “مہکتے پھول” کے خالق شکیل مصطفیٰ سر، “حرفِ گُم شدہ” کی مصنف ندا فاروقی (عمر فاروق عبداللطیف) اور “آزادی کا امرت مہوتسو اور اُردو” کے مصنف اسماعیل وفا شامل ہیں۔
اسی طرح سال 2024 کے لیے “بچے تارے ہمارے” کی مصنفہ فریدہ نثار احمد انصاری، “یہ شہرِ حسیں اپنا” کے خالق خیال اثر (رفیق احمد)، “تبسم ہی تبسم” کے مصنف ظہیر قدسی، “گُل افشانیاں” کے خالق ڈاکٹر مبین نذیر اور “ریگِ ایام” کے مصنف عثمان غنی اسکس کو بھی انعامات سے سرفراز کیا گیا۔ یہ اعزازات صرف انفرادی کامیابی نہیں بلکہ اُردو زبان و ادب کی بقا، ترقی اور فروغ کی ایک روشن علامت ہیں۔ ان قلم کاروں کی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مالیگاؤں کی سرزمین آج بھی تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہے اور یہاں کے ادیب اپنے قلم کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی، تہذیب کی حفاظت اور نئی نسل کی تربیت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
ان کی تحریریں نہ صرف جذبات کی ترجمان ہیں بلکہ فکر و شعور کی نئی راہیں بھی ہموار کرتی ہیں۔ استقبالیہ تقریب کا مقصد ان ادباء کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ نئی نسل میں ادبی ذوق کو بیدار کرنا اور انہیں یہ پیغام دینا ہے کہ محنت، لگن اور خلوص کے ساتھ کیا گیا کام ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس موقع پر معزز مہمانانِ گرامی کے تاثرات، شعری نشست اور ادبی گفتگو بھی پروگرام کا حصہ ہوں گی، جو اس محفل کو مزید یادگار بنائیں گی۔ انجمن محبان اُردو کتب کے صدر اور اراکین نے شہر کے تمام محبانِ اُردو، طلبہ، اساتذہ اور ادب سے وابستہ افراد سے پرخلوص اپیل کی ہے کہ وہ اپنی مصروفیات میں سے قیمتی وقت نکال کر اس روح پرور تقریب میں شرکت کریں، ان باصلاحیت قلم کاروں کی ہمت افزائی کریں اور اُردو زبان کی خدمت کے اس کارواں کو مزید تقویت بخشیں۔
یقیناً آپ کی شرکت نہ صرف ان ادباء کے لیے باعثِ مسرت ہوگی بلکہ اُردو ادب کے فروغ میں ایک اہم قدم بھی ثابت ہوگی۔