ڈاکٹر جاوید الرحمن خان کا انتقال، تعلیمی و ادبی حلقوں میں صفِ ماتم
Author -
personحاجی شاھد انجم
اپریل 30, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) معروف ماہرِ تعلیم اور دُرگ ویٹرنری کالج، انجیرا کے شعبۂ فزیالوجی و بایوکیمسٹری سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید الرحمن خان کا منگل کی صبح اچانک حرکتِ قلب بند ہو جانے کے باعث انتقال ہوگیا۔ وہ 65 برس کے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کا انتقال اشراق سے قبل ہوا، جس سے ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور عقیدت مندوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ ڈاکٹر جاوید الرحمن خان، معروف استاد شاعر مرحوم حضرت منشاء الرحمن خان منشاء کے فرزند تھے. اور علمی و ادبی ورثے کے امین سمجھے جاتے تھے۔ وہ سبکدوشی (وظیفہ یابی) سے محض دو دن قبل داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے، جسے اہلِ علم ایک بڑا سانحہ قرار دے رہے ہیں۔ مرحوم سبھاش نگر دُرگ (چھتیس گڑھ) میں مقیم تھے اور اپنی تدریسی زندگی میں انہوں نے بے شمار طلبہ کی رہنمائی کی۔ ان کی علمی قابلیت، خوش اخلاقی اور طلبہ نواز طبیعت کے باعث وہ تعلیمی حلقوں میں بے حد مقبول تھے۔ ان کے شاگرد اور ساتھی اساتذہ انہیں ایک مخلص استاد اور بہترین انسان کے طور پر یاد کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید الرحمن خان کی تدفین منگل کی شب بعد نماز عشاء گنجپارہ قبرستان میں عمل میں آئی، جہاں بلا تفریق مذہب و ملت سیکڑوں افراد نے شرکت کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ادھر اس سانحہ کے پیش نظر 3 مئی کو حضرت منشاء الرحمن خان منشاء کی 102ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ناگپور میں منعقد ہونے والا طرحی مشاعرہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس کا اعلان مرحوم کے بھائی ڈاکٹر ندیم الرحمن خان ندیم (صدر، قومی ایکتا ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، ناگپور) نے کیا۔ مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹیاں، نواسے، بھائی، بہنیں، عزیز و اقارب، دوست احباب اور شاگردوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ ان کے انتقال سے تعلیمی و ادبی دنیا میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جس کا پُر ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)