کھام گاؤں ، کیلکولس اکیڈمی شاندار افتتاح، طلبہ کے لیے جدید تعلیمی سہولیات کا اعلان
Author -
personحاجی شاھد انجم
اپریل 03, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) تعلیمی میدان میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر “Calculus Academy” کا باوقار افتتاح 3 اپریل کو بعد نماز عصر ایک مختصر مگر پر وقار تقریب میں عمل میں آیا۔
ثناء بک ڈپو انجمن چوک مالیگاؤں حاجی شاہد انجم
9270416786
اورنگ آباد میں کامیاب خدمات کے بعد اب اس اکیڈمی کا قیام کھام گاؤں میں عمل میں لایا گیا ہے، جس کا مقصد طلبہ کو ریاضی سمیت دیگر مضامین میں مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔ افتتاحی تقریب کی صدارت الحاج مصدیق اللہ خان نے فرمائی، جبکہ پروگرام کا آغاز شروش نبیل کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔
اس موقع پر مہمانِ خصوصی محمد ادریس جمعدار (سابق وائس پرنسپل، انجمن ہائی اسکول و جونیئر کالج، کھام گاؤں) نے اپنے خطاب میں ریاضی کو آسان انداز میں سکھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر تدریسی طریقوں کے ذریعے طلبہ میں ریاضی کا خوف ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایڈوکیٹ زیڈ بی شیخ نے موجودہ دور میں کیریئر گائیڈنس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ کو صحیح سمت میں رہنمائی فراہم کرنے پر زور دیا۔ جب کہ خصوصی مقرر مولانا یونس ندوی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں تدریس کے مؤثر انداز اور تفہیم کے اصولوں پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے آغاز میں مشاہد اللہ خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی کا مقصد طلبہ کے دلوں سے ریاضی کا خوف نکال کر انہیں سائنسی تعلیم کی طرف راغب کرنا ہے۔ پروگرام کی نظامت شعیب اللہ خان نے بحسن و خوبی انجام دی، جبکہ آخر میں ڈائریکٹر ڈاکٹر مجاہد اللہ خان نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا یونس ندوی کی دعا پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ اکیڈمی میں 5ویں تا 9ویں جماعت (فاؤنڈیشن)، دسویں (اسٹیٹ بورڈ و CBSE)، 11ویں و 12ویں سائنس کے ساتھ ساتھ NEET، JEE اور CET کی خصوصی کوچنگ فراہم کی جائے گی۔ طلبہ کے لیے انگریزی، اردو اور سیمی انگلش میڈیم میں تعلیم کی سہولت دستیاب ہوگی۔ مزید برآں تجربہ کار اساتذہ، ہفتہ وار ٹیسٹ، چھوٹے بیچز، ذاتی رہنمائی اور مضبوط کانسپٹ بلڈنگ جیسی خصوصیات اکیڈمی کا خاص امتیاز ہیں۔ اکیڈمی میں داخلے جاری ہیں، جبکہ طلبہ کے لیے ایک ہفتہ کے مفت ڈیمو کلاسز کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ کوچنگ کلاسز ٹیچر کالونی، مسجد بلال کے قریب، کھام گاؤں میں قائم کی گئی ہیں۔ تعلیمی حلقوں اور سرپرست حضرات نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے شہر کے طلبہ کے لیے ایک مثبت اور مفید پیش رفت قرار دیا ہے۔