یکم مئی ٢٠٢٦ __یوم مزدور مزدور نہیں __سّمان ہوں میں شگفتہ سبحانی (مالیگاؤں)
Author -
personحاجی شاھد انجم
مئی 01, 2026
0
share
دھرتی کے ماتھے کا سورج، آکاش کے مکھڑے کی رونق، کھیتوں کی، ندی کی جان ہوں میں مزدور نہیں سّمان ہوں میں مجھ سے ہی زمیں پر ہلچل ہے مجھ سے باغوں میں رونق ہے صحرا ہو سمندر یا جنگل ہمت کی اک پہچان ہوں میں کیا جھلساۓ گی آگ مجھے پتھر ریزہ بن جاتے ہیں بازو سے بازو ملتے ہیں صحرا میں گُل کھِل جاتے ہیں لکڑی کی بکھاریں مجھ سے ہیں ہر شہر کی رونق مجھ سے ہے مسجد کی عمارت سے لے کر شمشان کی اینٹیں مجھ سے ہیں شاعر بھی نہیں ٹیچر بھی نہیں اپنی خود کی پہچان ہوں میں بھـّٹی کی تپش میں، میں کُندن مزدور نہیں سّمان ہوں میں کیا مجھ کو ڈراۓ گی غربت میں بھوک سے لڑتا رہتا ہوں میلے کپڑوں میں ہو کر بھی بنیاد شہر کی رکھتا ہوں ہر بوجھ اٹھاتے ہیں کاندھے ہر کچرے، ہاتھ اٹھاتے ہیں میں چھالے دار ہتھیلی سے بچوں کی کفالت کرتا ہوں لیڈر بھی نہیں افسر بھی نہیں ہر محلوں کا دربان ہوں میں ہر اک پُرزے کی جان ہوں مزدور نہیں سمان ہوں میں مجھ کو نہ حقارت سے دیکھو غیرت کا نشاں ہوں اے لوگو محنت کے قصیدے لکھتا ہوں نہ بازی گر نہ جادو گر دو روٹی روز کماتا ہوں بچوں کیلئے میں محنت کش قسمت کے گگن پہ محنت سے میں خود چمکا وہ چاند ہوں میں ہمت کی اک پہچان ہوں میں مزدور نہیں __سّمان ہوں میں