علماء اور ائمۂ مساجد سے عاجزانہ درخواست SIR (ایس آئی آر ) سے متعلق عوام کی رہنمائی کی جاۓ از قلم محمد سرور شریف معلم مویدالمسلمین پرائمری اسکول پربھنی 9960451708
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 10, 2026
0
share
نہایت ادب و احترام کے ساتھ اپنی یہ گذارش آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں درحقیقت امت مسلمہ کی تاریخ اس بات کی روشن گواہ ہے کہ جب بھی کوئی اہم موقع آیا، جب بھی قوم کسی الجھن یا آزمائش سے دوچار ہوئی، تو علماء کرام اور ائمۂ مساجد نے ہمیشہ بصیرت، حکمت اور اخلاص کے ساتھ امت کی بہترین رہنمائی ، رہبری و بے باک قیادت فرمائی۔اور منبرِ رسول ﷺ نے ہر دور میں امت کو نہ صرف دینی بلکہ سماجی اور اجتماعی معاملات میں بھی صحیح سمت دکھائی ہے۔
آج ایک بار پھر ایسا ہی ایک اہم موقع ہمارے سامنے ہے کھڑا ہے، جو ہما سب کی توجہ اور ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ریاست مہاراشٹر میں ایس آئی آر (SIR) کا عمل 29 جون سے شروع ہو چکا ہے، جس کا پہلا مرحلہ 29 جولائی تک جاری رہے گا۔ یہ عمل بظاہر ایک معمول کی کارروائی محسوس ہو سکتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ہماری شناخت، ہمارے حقوق اور ہمارے مستقبل سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے عوام کی ایک بڑی تعداد اس عمل کی اہمیت اور طریقۂ کار سے پوری طرح واقف نہیں ہے، جس کے نتیجے میں افواہوں اور بے بنیاد خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے نازک وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو صحیح رہنمائی فراہم کی جائے اور انہیں اصل کام کی طرف متوجہ کیا جائے۔ علماء اور ائمۂ کرام سے عاجزانہ گزارش ہے کہ جس طرح آپ نے ہر موقع پر امت مسلمہ کی بہترین رہنمائی کی ہے، اسی طرح اس موقع پر بھی امت کی رہنمائی و رہبری فرمائیں الحمدللہ 3جولائی یعنی پہلے ہی جمعہ کو علماء اور ائمۂ مساجد نے اس اہم کام کی طرف مصلیان کو متوجہ کرایا اور بعض علاقوں میں اہل دل اور امت کا درد رکھنے والے نوجوانوں نے اس کام کا آغاز بھی کردیا ہے لیکن جس انداز میں یہ کام چل رہا ہے اس پر اطیمنان نہیں کیا جاسکتا ہے لہذا مزید 29 جولائی تک ہر جمعہ کے دن دعا سے قبل اس اہم مسئلے پر مختصر مگر مؤثر انداز میں روشنی ڈالیں۔ عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ بی ایل او (BLO) سے فارم حاصل کرنا، اسے مکمل احتیاط کے ساتھ بھرنا اور مقررہ آخری تاریخ سے قبل جمع کروانا نہایت ضروری ہے۔ اور بی ایل او کی دستخط والا ایک فارم اپنے پاس رکھنا ہےاور مصلیان کو یہ احساس دلانا یے کے یہ ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ عمل ہے، جس میں کوتاہی مستقبل میں مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ ساتھ ہی پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی اس اہم کام میں آگے آنے کی ترغیب دی جائے،کیوں کے وقت کم اور کام زیادہ ہے لہذا وہ اپنے خاندان، پڑوس اور معاشرے کے دیگر افراد کی رہنمائی کر سکیں۔ نوجوانوں کی شمولیت اس عمل کو زیادہ مؤثر، آسان اور کامیاب بنا سکتی ہے۔ یہ وقت سکون سے بیٹھنے کا نہیں، بلکہ آگے بڑھ کر کام کرنے قوم کو بیدار کرنے کا ہے۔ افواہوں اور خوف کے ماحول کو ختم کرنا اور لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مگر اس میں علماء اور ائمۂ کرام کا کردار سب سے زیادہ اہم اور مؤثر ہے۔ اگر آج ہم نے اس اہم مسلہ پر اپنے وقت کی قربانی دی تو نہ صرف ہم ایک اہم مرحلے کو کامیابی سے مکمل کریں گے بلکہ ایک باشعور اور ذمہ دار معاشرے کی بنیاد بھی رکھ سکیں گے۔ جس کے اثرات مستقبل میں ایک روشن صبح کی طرح نظر آئیں گے اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین