کھام گاؤں ، تعلقہ کی میرٹ لسٹ میں سرکاری اردو اسکولوں کا شاندار مظاہرہ نجی اردو اسکولوں کا کوئی طالب علم شامل نہیں
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 04, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) مہاراشٹر راجیہ پریکشا پریشد، پونے کے زیرِ اہتمام ماہ فروری 2026 میں منعقدہ ریاستی اسکالرشپ امتحان کے نتائج کا حال ہی میں اعلان کیا گیا،
جس میں کھام گاؤں تعلقہ کی میرٹ لسٹ میں اردو میڈیم کے چار طلبہ نے نمایاں کامیابی حاصل کرکے سرکاری اردو اسکولوں کی تعلیمی کارکردگی کا لوہا منوا دیا۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ میرٹ لسٹ میں شامل چاروں طلبہ کا تعلق سرکاری تعلیمی اداروں، یعنی ضلع پریشد اور نگر پریشد کے اردو اسکولوں سے ہے،
جب کہ کھام گاؤں تعلقہ کے کسی بھی نجی اردو اسکول کا ایک بھی طالب علم میرٹ لسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ میرٹ لسٹ میں شامل کامیاب طلبہ اربیہ اقیلمہ انیس اللہ خان نگر پریشد اردو پرائمری اسکول نمبر 4، کھام گاؤں ۔ الفیہ انجم انصار شیخ ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول کالے گاؤں ۔ نصرت جہاں شیخ ریحان ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول بھالے گاؤں ۔ محمد ابوبکر ساجد دیشمکھ ضلع پریشد اردو مڈل اسکول اٹالی ، کے نام شامل ہیں ۔ان نتائج کے بعد تعلیمی حلقوں، سرپرستوں اور عوام میں سرکاری اردو اسکولوں کی تدریسی معیار، محنتی اور باصلاحیت اساتذہ کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے۔ اہلِ علم کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود سرکاری اسکولوں کے اساتذہ طلبہ کی بنیادی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، جس کے باعث ابتدائی مرحلے کے مسابقتی امتحانات میں طلبہ مسلسل نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق کھام گاؤں تعلقہ کی میرٹ لسٹ میں کسی بھی نجی اردو اسکول کے طالب علم کا شامل نہ ہونا نجی اداروں کی تعلیمی کارکردگی پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی اسکولوں کو اپنی تدریسی حکمتِ عملی، معیارِ تعلیم اور مسابقتی امتحانات کی تیاری پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی مستقبل میں ایسے نمایاں نتائج پیش کر سکیں۔ سرکاری اردو اسکولوں کی یہ کامیابی نہ صرف متعلقہ طلبہ، اساتذہ اور والدین کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا بھی ثبوت ہے کہ اگر اساتذہ مخلص، محنتی اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے والے ہوں تو سرکاری اسکول بھی بہترین تعلیمی نتائج پیش کر سکتے ہیں۔