بلڈھانہ، زبان و رسم الخط پر عبور ہی قوموں کی طاقت کا راز ہے. رویندر انگلے چاوریکر "زبان، خودداری اور جمہوریت" کے موضوع پر ریاستی سطح کی علمی ورکشاپ، ڈاکٹر محمد ارشد عبدالرحیم کی کتاب کی رسمِ اجرا
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 27, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) ودربھ مہاودیالیہ، بلڈانہ میں "زبان، خودداری اور جمہوریت" کے عنوان سے ایک روزہ ریاستی سطح کی علمی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا، جس میں ریاست بھر سے اساتذہ، محققین، صحافیوں، ادیبوں، وکلا، سماجی کارکنوں اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس ورکشاپ کا اہتمام ودربھ مہاودیالیہ، بلڈھانہ، مُکتا پترکار مہاودیالیہ اور مراٹھی مہاودیالیہ اساتذہ تنظیم (امراوتی) کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز مفکر رویندر انگلے چاوریکر نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جن قوموں اور معاشروں نے اپنی زبان اور رسم الخط کو مضبوطی سے تھامے رکھا، اقتدار اور قیادت بھی ہمیشہ انہی کے حصے میں آئی۔
انہوں نے کہا کہ زبان محض اظہارِ خیال کا وسیلہ نہیں بلکہ تہذیبی شناخت، فکری آزادی، علمی ترقی اور قومی خودمختاری کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زبان کے زوال کے ساتھ کسی بھی قوم کی تہذیب، تاریخ اور فکری وراثت بھی کمزور پڑ جاتی ہے، اس لیے مادری زبان کے تحفظ، فروغ اور اس کے عملی استعمال کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مختلف طبقات اور افکار کے درمیان مسلسل مکالمہ زبان کو وسعت اور معاشرے کو جمہوری اقدار سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ ورکشاپ کے استقبالیہ کلمات کیلاش پوار نے پیش کیے، جبکہ صدارت ڈاکٹر گووند گائیکی نے انجام دی۔ پروفیسر ڈاکٹر دلیپ چوہان نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ زبان انصاف، مساوات، جمہوریت اور سماجی بیداری کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصابی تعلیم کے ساتھ مطالعہ، تحقیق اور فکری شعور کو فروغ دینے کی تلقین کی اور کہا کہ اپنی زبان و ثقافت سے وابستگی ہی قومی شناخت کی ضامن ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد ارشد عبدالرحیم ، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اُردو، ماڈل ڈگری کالج، بلڈانہ کی نئی تصنیف کی باوقار رسمِ اجرا بھی انجام دی گئی۔ تقریب میں شریک علمی و ادبی شخصیات نے کتاب کی تحقیقی اور ادبی اہمیت کو سراہتے ہوئے مصنف کو مبارکباد پیش کی۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے زبانوں کے تحفظ، مطالعے کے فروغ، علمی تحقیق اور جمہوری اقدار کے استحکام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مستقبل میں اس نوعیت کے مزید علمی و ادبی پروگراموں کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی۔