اردو اسکولوں کی جانچ اور معیارِ تعلیم میں بہتری کے لیے اردو کیندر پرمکھ کی تقرری ضروری ایوت محل ضلع پریشد کو ہائی کورٹ جاری کیا نوٹس
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 21, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) ریاست کے اردو میڈیم اسکولوں کی مؤثر نگرانی، تعلیمی جانچ اور معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے کے مقصد سے اردو اساتذہ کو کیندر پرمکھ (کلسٹر ہیڈ) کے عہدوں پر تقرری میں شامل کرنے کے مطالبے پر بمبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے ریاستی حکومت اور متعلقہ ضلع پریشد حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ ایوت محل ضلع پریشد کے اردو اساتذہ جاوید اکرام شیخ احمد، ثاقب عامر خان اور محمد واجد کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن نمبر 4629/2026 کی سماعت جسٹس انیل ایل. پنسارے اور جسٹس راجنیش آر. ویاس پر مشتمل دو رکنی بنچ کے روبرو ہوئی۔ عرضی گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ اردو میڈیم اسکولوں کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لینے، اساتذہ کی رہنمائی کرنے اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے اردو زبان سے واقف اور تجربہ کار اساتذہ کو کیندر پرمکھ مقرر کرنا ناگزیر ہے۔ حکومت کے 25 مارچ 2026 کے مراسلے میں بھی اردو میڈیم اساتذہ کو اس تقرری کے عمل میں شامل کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد متعلقہ فریقین کو 7 جولائی 2026 تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئندہ سماعت تک متعلقہ حکام عرضی گزاروں کی نمائندگی پر قانون کے مطابق فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اردو تعلیمی حلقوں میں اس عدالتی کارروائی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں اردو میڈیم اسکولوں کے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔