نویں کے طلبہ سے... از قلم.ڈاکٹر مبین نذیر مالیگاؤں
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 25, 2026
0
share
آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحانات کو ایک سال باقی ہے ـ ابھی سے کیوں ان کو نصیحت فضیحت کی جائے ؟ابھی مزید ایک سال انھیں مٹر گشتی ،کھیل کود اور موج مستی کرلینے دیں ـ یہی سوچ طلبہ اور سرپرستوں کی ہوتی ہے ـ چند برسوں پہلے تک ایسا معاملہ چل جاتا تھا لیکن فی زمانہ مقابلہ اتنازیادہ بڑھ چکا ہے کہ کسی بھی شعبے میں کامیابی اور کامرانی کے لیے لانگ ٹرم منصوبہ بندی اور سنجیدگی ضروری ہے ـ اگر آپ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں تو آپ کو برسوں پہلے سے پلاننگ کرنی ہوگی ـ اور اس کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کوشش بھی کرنی ہوگی تب ہی آپ اور آپ کا بچہ عملی زندگی میں کامیاب ہوگا ـ دسویں جماعت میں سرخرو ہونا ہے تو اس کے لیے کوشش آٹھویں، نویں جماعت سےشروع کرنی چاہیے ـ لیکن اگر آپ نے کئی برس گنوا دیے ہیں اور آپ اس وقت نویں جماعت میں زیر ِ تعلیم ہیں تو ابھی سے دسویں جماعت کی تیاری شروع کردیں ـ دسویں کی تیاری کے لیے یہ موزوں ترین وقت ہے ـ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں ـ روزانہ دو تین گھنٹے باقاعدگی سے پڑھائی کریں ـ تمام مضامین کی بنیادی باتیں سمجھیں ـ اپنا کانسپٹ کلیئر کریں ـ جو بات سمجھ میں نہ آئے بلا کسی تکلف و تردد کے اساتذۂ کرام سے بار بار پوچھیں ـ سوالات کرنے میں بالکل بھی جھجک محسوس نہ کریں ـ جو سوالات کرتا ہے وہ سیکھتا ہے ـ اسکول میں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو گھر پر اپنے والدین اور سرپرستوں سے پوچھیں ـ کچھ بنیادی باتیں، ضابطے، پہاڑے، گرامر، مضمون نگاری ، مکتوب نگاری، اشتہار سازی، خاکے کی مدد سے کہانی لکھنا، اقتباس پڑھ کر سوالوں کے جوابات لکھنا، اشعار کی تشریح کرنا وغیرہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق یاد کرنے کی بجائے عملی مشق سے ہے ـ مذکورہ عناوین اور ان سے ملتے جلتے موضوعات کی تیاری آپ ابھی سے شروع کردیں ـ مشہور مصنفین،شعرا اور اصناف کی بنیادی معلومات کو جمع کریں اور یاد کریں ـ صنعتوں کی تعریف اور ان کی مثال کے لیے اشعار، محاوروں اور کہاوتوں کے معنی اور ان کا جملوں میں درست استعمال کرنے کی مشق کریں ـ پہاڑوں کے ساتھ کسوٹیاں اور ضابطے یاد کریں ـ انگریزی گرامر کی مشق کریں ـ غیر نصابی کتابیں، اخبارات اور رسائل کا بھی مطالعہ کریں ـ خوش خطی، زبانی امتحان ،انٹرویو اور پریکٹیکل وغیرہ کی تیاری پر ابھی سے توجہ دیں ـ نویں جماعت کے امتحانی پرچوں کو حل کریں ـ ان کا تجزیہ کریں کہ کس قسم کے سوالات پوچھے جاتے ہیں ـ ایک ہی سوال کو مختلف انداز سے کس طرح امتحان میں پوچھا جاتا ہے؟ اس کو نوٹ کریں ـ اپنے اساتذۂ کرام اور سرپرستوں کی رہنمائی میں آپ مصنوعی ذہانت کی بھی مدد لے سکتے ہیں اور اپنی تیاری کو بہتر بناسکتے ہیں ـ رہی بات موبائل کا استعمال اور اسکرین ٹائم کم کرنے کی ،تو اس کار ِ خیر کے لیے آپ کو کسی نصیحت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ـ اپنی صحت اور غذا پر بھی توجہ دیں ـ صحت بخش اور متوازن غذا استعمال کریں ـ ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتے رہیں ـ پڑھائی کے ایام میں بھرپور نیند لیں ـ اکثر طلبہ امتحان کے ایام میں بہت زیادہ جاگتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہوجاتی ہے ـ دسویں جماعت میں آپ کتنے فیصد مارکس حاصل کرنے ہیں ، یہ نویں جماعت میں ہی طے کرلیں ـ اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہمارے طلبہ اپنا گول یعنی مقصد طے نہیں کرتے ـ بس دوستوں اور سہیلیوں کی دیکھا دیکھی اختیاری مضامین، کوچنگ کلاسز کا انتخاب اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ـ آپ کو دسویں جماعت کی بنیاد نویں کلاس میں ہی رکھنی ہے، تب ہی آپ دسویں جماعت میں نمایاں کامیابی سے ہمکنار ہوں گے، کیوں کہ ہر طالب علم کی صلاحیت ،حالات اور پسند و ناپسند مختلف ہوتی ہے ـ اسی کے مطابق ہمیں اسکول، مضمون اور کلاس کا انتخاب کرنا چاہیے ـ آپ نویں جماعت میں تو یہ سب تبدیل نہیں کرسکتے لیکن اگر ابھی سے محنت شروع کردیں اور مستقل مزاجی سے مسلسل محنت کرتے رہیں تو دسویں جماعت میں آپ کا تعلیمی معیار بلند ہوسکتا ہے ـ آپ کا دسویں جماعت کا رزلٹ بہتر ہوسکتا ہے اور مستقبل روشن ہوسکتا ہے ـ بس شرط یہ ہے کہ آپ نویں جماعت میں سستی اور دھینگا مستی کی بجائے ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ پڑھائی پر دھیان دیں ـ یاد رکھیں کہ ساری کوشش، محنت، بھاگ دوڑ اور تگ و دو ،نویں اور دسویں کے امتحان سے پہلے تک ہے ـ آپ امتحان سے پہلے جتنی محنت کریں گے اتنا ہی آپ کا رزلٹ بہتر ہوگا ـ ہر ہفتے یا مہینے اس بات کا جائزہ بھی لیں کہ آپ نے اپنی ہی کی ہوئی منصوبہ بندی پر کتنا عمل کیا؟ اور کہاں آپ کمزور پڑ رہے ہیں؟ اپنی کمزوریوں پر قابو پاتے ہوئے منصوبہ بندی اور ٹائم ٹیبل میں آپ مناسب تبدیلی بھی کرسکتے ہیں ـ رزلٹ کے بعد کم مارکس ملنے پر آپ کے حیلے بہانے ، رونا دھونا اور بھاگ دوڑ آپ کے رزلٹ کو بہتر نہیں بناسکتی ـ اس لیے ابھی وقت ہے، ابھی سے پڑھائی اور اپنے مستقبل کو سنوارنے میں جٹ جائیں ـ یاد رکھیں کہ دسویں جماعت کا رزلٹ ایک سال میں یا صرف امتحان کے وقت تیار نہیں ہوتا بلکہ نویں جماعت کے ان ہی ایام میں تشکیل پاتا ہے ـ آج کی محنت کا پھل کل کامیابی کی صورت میں آپ کے سامنے ہوگا ـ