اردو صرف زبان نہیں، ایک مکمل تہذیبی ورثہ ہے: سید حسین اختر مشہور ادیب و صحافی شمیم طارق سے اہم نشست، فروغِ اردو کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 20, 2026
0
share
ممبئی (پریس ریلیز) مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کے چیئرمین سید حسین اختر اور اکادمی کے سی ای او سید شعیب ہاشمی نے معروف صحافی، ادیب اور اردو کے بے لوث خدمت گزار شمیم طارق سے ان کی رہائش گاہ پر خصوصی ملاقات کی۔
اس موقع پر اردو زبان و ادب کے فروغ، اردو تہذیب کے تحفظ اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
خرابیٔ صحت کے باوجود شمیم طارق نے جس خلوص اور محبت کے ساتھ سید حسین اختر کا استقبال کیا، وہ ان کی اردو سے والہانہ وابستگی اور ادبی شخصیات کے احترام کی روشن مثال تھی۔
دورانِ گفتگو اردو کے موجودہ حالات، اردو اداروں کے کردار اور زبان کے فروغ کے لیے عملی اقدامات پر مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ سید حسین اختر نے اس موقع پر کہا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے جو بھی مثبت تجاویز اور مشورے سامنے آئیں گے، انہیں حکومت تک پہنچانے اور ان پر عمل درآمد کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ اردو ہماری مشترکہ تہذیب کی علامت ہے اور اس کے فروغ کے لیے تمام سنجیدہ افراد کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی ورثہ ہے، جس کی حفاظت اور ترویج کی ذمہ داری ہر ہندوستانی پر عائد ہوتی ہے۔ اردو کو کسی ایک مذہب یا طبقے سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ یہ زبان ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، محبت، بھائی چارے اور گنگا جمنی روایت کی نمائندہ ہے۔ شمیم طارق نے اردو حلقوں کو درپیش مختلف مسائل کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ زبان سے حقیقی وابستگی رکھنے والے افراد کو آگے لایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اردو کے نام پر ایسے افراد کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے جن کا زبان و ادب سے کوئی حقیقی تعلق نہیں ہے، بلکہ اردو کی خدمت کرنے والے مخلص ادیبوں، قلم کاروں اور محققین کی پذیرائی ہونی چاہیے۔ ملاقات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اردو کی اصل خدمت وہ اہلِ قلم انجام دے رہے ہیں جو محدود وسائل کے باوجود سنجیدہ موضوعات پر مسلسل لکھ رہے ہیں۔ فلمی دنیا اور شہرت رکھنے والی شخصیات سے حسد نہیں، لیکن اردو کے خاموش اور بے لوث خدمت گزاروں کی قدر و منزلت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گفتگو میں اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ اردو کے مسائل صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں بلکہ گھروں اور تعلیمی اداروں میں بھی اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ نئی نسل کو اردو سے جوڑنے اور زبان کے علمی و ادبی سرمائے سے روشناس کرانے کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی پر زور دیا گیا۔ یہ ملاقات اردو زبان و ادب کے دو مخلص خدمت گزاروں کے درمیان ایک مثبت فکری نشست ثابت ہوئی، جس میں اردو کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات اور تعمیری سوچ کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔