عزیز طلبہ! دسویں جماعت آپ کے تعلیمی سفر کا وہ سنگِ میل ہے، جہاں سے آپ کے مستقبل کی راہیں نکلتی ہیں۔ چونکہ آپ زندگی میں پہلی بار بورڈ کے امتحان کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے تھوڑا بہت ذہنی دباؤ فطری ہے۔
تقریباً تیس برس گزر چکے ہیں، مگر دسویں جماعت کا پہلا پرچہ، امتحان ہال کا تناؤ بھرا ماحول ، دل کی تیز دھڑکنیں اور سپروائزر کی شکل و صورت ، آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہے ـ
ہمارے معاشرے میں عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ دسویں کے طالب علم کو گوشہ نشین ہو کر صرف کتابوں میں گم رہنا چاہیے۔ یہ خیال درست نہیں۔ اعتدال اور مناسب منصوبہ بندی سے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود، صحت اور سیر و تفریح کے لیے بھی باآسانی وقت نکالا جا سکتا ہے۔
کامیابی کا پہلا زینہ نظم و ضبط ہے۔
اپنے شب و روز کا ایک ایسا ٹائم ٹیبل بنائیں جس میں سال کے شروع میں روزانہ دو تین گھنٹے باقاعدگی سے پڑھائی کے لیے مختص ہوں۔ بعد میں اس میں بتدریج اضافہ کرتے جائیں ـ رٹا لگانے کی بجائے تمام مضامین کے کانسپٹ اور بنیادی باتوں کو سمجھنے پر زور دیں۔ جو بات سمجھ میں نہ آئے، بلا جھجک اپنے اساتذۂ کرام اور گھر پر والدین سے پوچھیں۔ یاد رکھیں، جو سوال کرتا ہے، وہی سیکھتا ہے۔
زبان اور ادب کی تیاری کے لیے مضمون نگاری، مکتوب نگاری، اشتہار سازی، خاکے کی مدد سے کہانی لکھنا اور اشعار کی تشریح جیسے امور محض یاد کرنے کے نہیں، بلکہ عملی مشق کے متقاضی ہیں۔ صنعتوں کی تعریفیں، محاوروں کا درست استعمال، ریاضی کے ضابطے، اور انگریزی گرامر پر ابھی سے توجہ مرکوز کریں۔ گزشتہ برسوں کے امتحانی پرچوں کو حل کریں اور تجزیہ کریں کہ ایک ہی سوال کو کس طرح مختلف انداز سے پوچھا جا سکتا ہے۔
اپنے اساتذہ اور سرپرستوں کی نگرانی میں آپ مصنوعی ذہانت سے بھی مدد لے سکتے ہیں تاکہ آپ کی تیاری مزید بہتر ہو۔ تاہم، اسکرین ٹائم کو صرف پڑھائی تک محدود رکھیں۔ انٹرنیٹ کا مواد آپ کی درسی کتابوں اور خود کی تیار کردہ نوٹس کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے غیر ضروری طور پر موبائل کے استعمال سے گریز کریں۔ اپنی خوراک کا خیال رکھیں ـ امتحانات کے دوران راتوں کو بلاوجہ جاگنے کے بجائے بھرپور نیند لیں تاکہ آپ کا ذہن تروتازہ رہے۔
رزلٹ کے بعد آپ کو آگے کے مراحل میں کوئی پریشانی نہ ہو ،اس لیے امتحان کا فارم بھرتے وقت اپنے دستاویزات پر خاص توجہ دیں۔ اپنا اور والدین کا نام ، ایل سی کے مطابق لکھیں ۔ معمولی سی غلطی مستقبل میں دشواری کا سبب بن سکتی ہے۔ آدھار کارڈ اپڈیٹ رکھیں ـ اس میں وہی موبائل نمبر لنک کرائیں جو مستقل جاری رہنے والا ہو ـ مختلف آن لائن فارم اور داخلے کے وقت او ٹی پی اسی نمبر پر آتا ہے ـ اس لیے درست اور جاری نمبر ہی ہر جگہ درج کریں ـ
دسویں کے رزلٹ اور ایل سی کی اصل کاپیاں اور زیراکس تاحیات سنبھال کر رکھیں ـ دسویں کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ کو کس شعبے میں اپنا کریئر بنانا ہے؟ حالانکہ یہ فیصلہ پہلے ہی ہوجانا چاہیے ـ آن لائن داخلے میں کٹ آف اور میرٹ کی بنیاد پر ایڈمیشن ملتا ہے، اس لیے اپنی پسند کے جونیئر کالج میں نشست پانے کے لیے ابھی سے کڑی محنت کریں۔ اپنا تعلیمی ہدف ابھی سے طے کرلیں اور جی جان سے اس کے حصول میں لگ جائیں ـ
کریئر کے انتخاب میں بھیڑ چال کا حصہ نہ بنیں۔ اگر میڈیکل یا انجینئرنگ کا ارادہ ہے، تو یاد رکھیں کہ ان کے لیے سائنس، ریاضی اور انگریزی پر عبور لازمی ہے۔ ان مضامین میں کمزور ہونے کے باوجود محض شوقیہ طور پر یا دوستوں اور سہیلیوں کو دیکھ کر سائنس لینے والے اکثر طلبہ کا تعلیمی سفر آسان نہیں ہوتا۔ دوسری جانب، یہ غلط فہمی عام ہے کہ آرٹس میں کریئر کے مواقع نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہے ! قانون، صحافت، نفسیات، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سول سروسز اور گرافک ڈیزائننگ وغیرہ جیسے درجنوں شعبے آپ کے منتظر ہیں۔ بس آپ کے اندر اپنے شعبے کی مہارت ہونی چاہیے ـ کامرس کے توسط سے سی اے اور بینکنگ وغیرہ میں بھی کرئیر بنایا جا سکتا ہے۔
والدین بھی جان لیں کہ بچوں کا رزلٹ، سرپرستوں کی رہنمائی اور تربیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ بچوں کو بھرپور وقت دیں ـ انہیں اعتماد میں لیں اور ان کا حوصلہ بڑھائیں۔ جس طرح ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اسی طرح ہر بچہ ڈاکٹر اور انجینئر نہیں بن سکتا۔ خالق ِ ارض و سماں نے ہر بچے کے اندر کوئی نہ کوئی منفرد صلاحیت رکھی ہے۔ آپ کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اپنے بچے کی اس خوبی اور صلاحیت کو پہچانیں اور اسی مخصوص شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں۔ اگر آپ نے ایسا کیا، تو یقیناً آپ کا بچہ ایک کامیاب انسان بن کر آپ کا نام روشن کرے گا۔
عزیز طلبہ! نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے۔ ابھی سے اتنی لگن اور محنت سے پڑھائی کریں کہ جب دسویں جماعت کا رزلٹ آئے تو آپ کا اور آپ کے والدین کا دل خوشی سے جھوم اٹھے ـ آپ جس جونیئر کالج میں چاہیں وہاں آپ کا داخلہ ہوجائے ـ نمازوں ،دعاؤں اور سنتوں کا ساری زندگی اہتمام کریں ـ خاص مواقع پر نماز شکرانہ، صلاۃ التوبہ ،صلاۃ الحاجت کو بھی اپنا معمول بنائیں ـ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ،
ارادے جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
آپ کا مستقبل روشن اور تابناک ہو ـ ہماری دعائیں اور نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں ـ



