عبد القیوم خان کفایت خان : علم، محنت اور خدمت کا روشن استعارہ از قلم : خان نویدالحق انعام الحق اسپیشل آفیسر فار اردوٗ، رکن سیکرٹری اردوٗ لسانی کمیٹی نیز رابطہ کار برائے اردوٗ ،عربی و فارسی لسانی کمیٹی، بال بھارتی ،پوٗنہ
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 28, 2026
0
share
تعلیم و تربیت کے میدان میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک ملازم یا استاد کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام نہیں دیتیں بلکہ اپنی فکر، محنت، اخلاص اور عملی کردار کے ذریعے معاشرے میں ایک روشن مثال بن جاتی ہیں.
جناب عبد القیوم خان کفایت خان بھی ایسی ہی ایک باوقار اور فعال شخصیت ہیں جنھوں نے اپنی ساری زندگی تعلیم، تدریس، اردوٗ زبان کی خدمت، نصابی سرگرمیوں اور سماجی وابستگی کے لیے وقف کر رکھی ہے. ان کی شخصیت میں ایک مخلص معلم، ایک متحرک تعلیمی کارکن، ایک ذمے دار سماجی فرد اور ایک سنجیدہ علمی شخصیت کے تمام اوصاف بدرجۂ اَتَم موجوٗد ہیں. یکم جون 1978ء کو پیدا ہونے والے عبد القیوم خان کو والدہ محترمہ رئیسہ بی اور والد کفایت خان صاحب کی تربیت، دعاؤں اور اخلاقی اقدار نے ایک مضبوط کردار عطا کیا. ابتدائی زندگی ہی سے علم حاصل کرنے اور دوٗسروں کو فائدہ پہنچانے کا جذبہ ان کے اندر نمایاں تھا.
مضمون نگار : خان نویدالحق انعام الحق
(اسپیشل آفیسر فار اردوٗ)
یہی جذبہ آگے چل کر ان کی ساری زندگی کا محور بن گیا. یکم فروری 2002ء کو بطورِ پرائمری ٹیچر ان کی تقرری عمل میں آئی اور اس دن سے لے کر آج تک وہ مسلسل تعلیمی میدان میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں.
تقریباً چوبیس سالہ تدریسی تجربہ ان کی محنت، استقامت اور پیشہ وارانہ وابستگی کا روشن ثبوت ہے. نگر پالیکا پرائمری اسکول بورڈ، شہادہ سے وابستگی نے انھیں ہزاروں طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کا موقع فراہم کیا. انھوں نے تدریس کو کبھی محض ایک سرکاری ملازمت نہیں سمجھا بلکہ اسے قوم کی تعمیر اور نسلوں کی آبیاری کا ایک مقدس فریضہ قرار دیا. ان کے شاگرد آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنے استاد کی شفقت، رہنمائی اور خلوٗص کو ہمیشہ یاد کرتے ہیں.
اہم اور قابلِ ذکر امر ہے کہ عبدالقیوم خان کی علمی پیاس ہمیشہ زندہ رہی. ملازمت کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور مسلسل حصولِ علم کی منزلیں طے کیں.
ایس ایس سی اور ایچ ایس سی کے بعد ڈی.ایڈ مکمّل کیا، پھر مضمون تاریخ میں بی.اے اور ایم. اے کی ڈگریاں حاصل کیں. بعد ازاں اردوٗ زبان و ادب سے اپنی خصوٗصی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے ایم.اے اردوٗ فرسٹ کلاس میں مکمّل کیا. اس کے علاوہ ایم ایس سی آئی ٹی اور آئسولیٹڈ مراٹھی جیسی تعلیمی اسناد بھی حاصل کیں. یہ مسلسل تعلیمی سفر اس بات کا ثبوٗت ہے کہ وہ خوٗد بھی ہمیشہ ایک طالبِ علم کی حیثیت سے جینا پسند کرتے ہیں. ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلوٗ ان کی غیر معموٗلی فعالیت اور متحرک مزاج ہے. وہ ان اساتذہ میں سے نہیں ہیں جو صرف نصابی کتابیں پڑھا کر اپنی ذمے داری پوٗری سمجھ لیتے ہیں بلکہ وہ تعلیمی منصوٗبہ بندی، تدریسی اصلاحات، طلبہ کی ذہنی تربیت، ہم نصابی سرگرمیوں اور جدید تعلیمی رجحانات کے فروغ میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں. اُن کی کوشش رہتی ہے کہ طلبہ میں تخلیقی صلاحیتیں پیدا ہوں، اُن میں مطالعے کا شوق بیدار ہو اور وہ اپنے معاشرے کے ذمے دار شہری بن سکیں. عبد القیوم خان کفایت خان کی علمی اور تدریسی صلاحیتوں کا ایک اہم اعتراف اس وقت سامنے آیا۔
جب انھیں مہاراشٹر کے ممتاز تعلیمی ادارے مہاراشٹر راجیہ پاٹھیہ پستک نرمتی و ابھیاس کرم سنشودھن منڈل، بال بھارتی، پوٗنہ کی اردوٗ لسانی کمیٹی کی رکنیت سے نوازا گیا. یہ اعزاز ان کے لیے محض ایک انتظامی ذمے داری نہیں بلکہ ان کی طویل تدریسی خدمات، علمی بصیرت، اردوٗ زبان سے گہری وابستگی اور نصابی شعور کا باقاعدہ اعتراف ہے. یہ امر خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے کہ انھیں یہ اہم رکنیت کسی سیاسی سفارش، ذاتی تعلقات، اثر و رسوخ یا انتظامی مداخلت کے نتیجے میں حاصل نہیں ہوئی بلکہ انھوں نے اس کے لیے مقررہ ضوابط کے مطابق زبانی اور تحریری دونوں امتحانات میں شرکت کی. اپنی علمی قابلیت، تدریسی تجربے اور لسانی مہارت کی بنیاد پر انھوں نے ان امتحانات میں کامیابی حاصل کی اور مکمّل اہلیت و استحقاق کے ساتھ اس باوقار ادارے کی رکنیت کے لیے منتخب ہوئے. اس حقیقت سے ان کی علمی دیانت، خوٗد اعتمادی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے. آج کے دَور میں جب مختلف شعبوں میں سفارش اور اثر و رسوخ کے چرچے عام ہیں، ایسے میں عبد القیوم خان کی یہ کامیابی اس بات کی روشن مثال ہے کہ محنت، قابلیت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے بھی اعلیٰ علمی اور تعلیمی مناصب حاصل کیے جا سکتے ہیں. ان کی یہ کامیابی خصوصاً نوجوان اساتذہ اور اردوٗ کے خدمت گاروں کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام رکھتی ہے. اردوٗ لسانی کمیٹی میں ان کی فعالیت نہایت نمایاں ہے. نصابی مباحث، درسی کتب کی تیاری، اسباق کے انتخاب، لسانی معیار کی حفاظت اور طلبہ کی ذہنی سطح کے مطابق مواد کی تشکیل جیسے اہم امور میں ان کی آرا کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے. کمیٹی کے اراکین، ماہرینِ تعلیم اور ادارے کے ذمے داران ان کے تجربے، سنجیدگی اور متوازن نقطۂ نظر کا احترام کرتے ہیں. بال بھارتی، پوٗنہ کے زیرِ اہتمام درسی کتب کی تیاری میں ان کی شرکت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ ایک ایسے معلم کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں جو کلاس روم کے عملی تجربات کو نصابی منصوٗبہ بندی سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. ان کا ماننا ہے کہ نصاب محض کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ نسلوں کی فکری اور تہذیبی تشکیل کا ذریعہ ہے. اسی احساسِ ذمے داری کے تحت وہ اردوٗ زبان کی بقا، ترقی اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں. یہی وجہ ہے کہ ضلع نندُربار، شہادہ اور ضلع دھولیہ کے تعلیمی حلقوں میں ان کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے. ان کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دیانت، محنت، مسلسل مطالعہ اور تعلیمی وابستگی انسان کو بلند مقامات تک پہنچا سکتی ہے. ان کی شخصیت ان اساتذہ کے لیے ایک روشن مثال ہے جو خاموشی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے قوم و ملت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں. اردوٗ زبان سے اُن کی وابستگی بھی بے حد قابلِ ذکر ہے. انھیں اردوٗ لسانی کمیٹی، بال بھارتی، پوٗنہ کی جو رکنیت حاصل ہے، وہ دراصل ان کی علمی صلاحیتوں، لسانی شعوٗر اور تدریسی تجربے کا اعتراف ہے. اس کمیٹی میں وہ نہایت سنجیدگی اور ذمے داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں. اردوٗ زبان کے فروغ، نصابی بہتری اور نئی نسل تک معیاری اردوٗ تعلیم کی فراہمی کے لیے ان کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں. بال بھارتی، پوٗنہ کے تحت درسی کتب کی تیاری، نصابی مواد کی جانچ اور تعلیمی سرگرمیوں میں ان کی فعالیت نمایاں ہے. انھوں نے نصاب سازی کے عمل میں بھی عملی شرکت کرتے ہوئے ایسے نکات اور تجاویز پیش کیں جو طلبہ کی ذہنی سطح، لسانی ضروٗرتوں اور عصری تقاضوں کے مطابق ہوں. اُن کی خواہش ہے کہ اردوٗ زبان نہ صرف زندہ رہے بلکہ جدید تعلیمی نظام میں اپنا مضبوٗط مقام بھی برقرار رکھے. درسی کتب کی تیاری میں ان کی شرکت دراصل ان کی علمی بصیرت اور نصابی شعور کی دلیل ہے. اسی طرح اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (ایس سی ای آر ٹی ایم)، پوٗنہ کی بنیادی سطح کی نصابی کمیٹی سے وابستگی نے بھی انھیں تعلیمی میدان میں ایک نمایاں مقام عطا کیا. ابتدائی تعلیم کے نصاب کو طلبہ دوست بنانے اور تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے سلسلے میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی. خاندانی زندگی میں بھی عبد القیوم خان نے ایک ذمے دار اور مثالی کردار ادا کیا ہے. محبت، قربانی، حوصلہ افزائی اور مسلسل رہنمائی کے ذریعے انھوں نے اپنے بھائی کی تعلیم و تربیت میں غیر معمولی کردار ادا کیا. ان کی شبانہ روز محنت، دعاؤں اور خلوٗص کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے بھائی نے اعلیٰ سرکاری خدمات میں نمایاں مقام حاصل کیا اور کلکٹر جیسے اہم عہدے تک پہنچے. یہ کامیابی صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسے بڑے بھائی کی جدوجہد اور قربانی کی بھی داستان ہے جس نے اپنی ذاتی خواہشات سے زیادہ اپنے خاندان کی ترقی کو اہمیت دی. سماجی اعتبار سے بھی عبد القیوم خان کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے. شہادہ اور اس کے اطراف میں ان کی شخصیت ایک باوقار معلم، مخلص انسان اور خوش اخلاق سماجی کارکن کے طور پر جانی جاتی ہے. عوام، اساتذہ، طلبہ اور سماجی شخصیات سبھی ان کے اخلاق، انکساری اور خدمت کے جذبے کے معترف ہیں. ان کی مجلس میں سنجیدگی، شائستگی، علم دوستی اور انسان دوستی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے. اردوٗ لسانی کمیٹی، بال بھارتی، پوٗنہ کے اراکین بھی ان کی علمی صلاحیتوں اور تجربے کا اعتراف کرتے ہیں. ادارے کے ذمے داران اور سربراہان ان کی رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور تعلیمی و نصابی معاملات میں ان کی شرکت کو اہمیت دیتے ہیں. ان کا سنجیدہ مزاج، متوازن فکر اور خلوٗص پر مبنی رویہ انھیں ہر حلقے میں محترم بناتا ہے. شہادہ اور ضلع دھولیہ کا علاقہ اپنی تہذیبی اور لسانی تنوع کے لیے معروٗف ہے. یہ خطہ قبائلی آبادی، دیہی معاشرت اور تعلیمی چیلنجوں کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے. ماضی سے ہی شہادہ ضلع دھولیہ کا حصہ رہا ہے اور اس پورے خطے میں تعلیم کے فروغ کے لیے بے شمار افراد نے خدمات انجام دی ہیں. عبد القیوم خان انھی شخصیات میں شامل ہیں جنھوں نے اس خطے کے تعلیمی اور سماجی ارتقا میں اہم کردار ادا کیا. انھوں نے پسماندہ اور محروٗم طبقات کے بچّوں کو تعلیم سے جوڑنے، اردوٗ زبان کی ترویج اور تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں. ان کی ساری زندگی اس حقیقت کی ترجمان ہے کہ ایک مخلص معلم صرف کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ معاشرے کی تعمیر، خاندان کی رہنمائی، زبان کی خدمت اور نسلوں کی کردار سازی کا عظیم فریضہ انجام دیتا ہے. عبد القیوم خان کفایت خان نے اپنی علمی بصیرت، تدریسی تجربے، سماجی وابستگی، اردوٗ دوستی اور خاندانی ذمے داریوں کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اخلاص، محنت اور خدمت کے جذبے سے انسان نہ صرف اپنی زندگی کو بامعنی بنا سکتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک روشن مثال بھی بن سکتا ہے.
ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور یقیناً ان کا نام تعلیمی اور ادبی حلقوں میں عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا.