تعلیمی انقلاب نسلِ نو کا بہترین رہبر، راہنما اور محرک از: شکیل مصطفی، مالیگاؤں 9145139913
Author -
personحاجی شاھد انجم
ستمبر 19, 2026
0
share
عام طور پر ملک کی نام نہاد ترقی یافتہ اقوام امتِ مسلمہ پر ایک جذباتی قوم ہونے کا الزام تسلسل کے ساتھ دھرتی چلی آرہی ہے۔
ان کی سوچ کے مطابق ہم ایک مذہبی جنونی قوم ہیں۔
ہمارے یہاں زندگی کے ہر شعبے میں منصوبہ بندی کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں ملت اسلامیۂ ہند اکثریت کے مقابلے ہنوز ترقی کے میدان میں پسماندہ ہی نظر آتی ہے۔
بالخصوص ہمارے اداروں پر تو سرِ عام یہ طنز کیا جاتا ہے کہ یہ طویل میعادی منصوبہ سازی سے عاری ہوتے ہیں۔
لیکن روزنامہ ’انقلاب‘ نے روزِ اول سے یہ ثابت کیا ہے کہ ملت کی من حیث القوم ترقی کی راہیں کس نہج پر ہموار کی جاسکتی ہیں۔
جذباتیت اور اشتعال انگیزی پر مبنی طریقۂ کار کو انقلاب نے کبھی بھی اپنا شعار نہیں بنایا۔ وہ اپنی اعتدال کی ڈگر پر بتدریج چلتا رہا اور اس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے دو اور دو چار کی طرح واضح نظر آرہا ہے۔
اسی تناظر میں تعلیمی انقلاب کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ حالاں کہ اس کی عمر محض ۹ سال کی ہے اور قوموں کے عروج وزوال اور نشیب وفراز میں یہ میعاد قلیل مدت میں شمار کی جاتی ہے۔
بلاشبہ ٹیم انقلاب نے اپنے اس جریدے کے اجراء سے قبل کافی غور وخوض کیا ہوگا۔
اس کے بعد ہی اسے قارئین اردو کے حوالے کئے جانے کے سلسلے کا آغاز ہوا۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مختصر سی معیاد میں بھی تعلیمی انقلاب نے طلباء وطالبات، اساتذۂ کرام اور تعلیمی ماہرین حتی کہ ہمارے مفکر و دانشور طبقے کی توجہ اپنی سمت مرکوز کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
اس کا تذکرہ بھی از حد ضروری ہے۔ یہ وضاحت و صراحت بھی ضروری ہے کہ تعلیمی انقلاب کے قاری محض طبقۂ اشراف سے وابستہ نہیں ہیں۔
بلکہ ہم نے بارہا یہ منظر بھی دیکھا ہے کہ چائے خانوں اور عوامی کتب خانوں میں ہمارا محنت کش طبقہ جو جفاکش مزدوروں پر مشتمل ہے وہ بھی نہایت سنجیدگی کے ساتھ تعلیمی انقلاب کے مطالعہ میں مصروف ہوتا ہے۔
ظاہر ہے ہمارے معاشرے کا اکثریتی طبقہ تو یہی ہے اور وہ دلچسپی اور انہماک کے ساتھ تعلیمی انقلاب کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اثرات کے مرتب ہونے کی نفی نہیں کی جاسکتی۔
تعلیمی انقلاب کے مشمولات بھی دین ودنیا کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں اور جس طرح توازن کے ساتھ تعلیمی، دینی اور سماجی عناوین پر مضامین ہوتے ہیں ہمارے طلباء وطالبات کے لئے خاص طور پر بہترین رہنما ثابت ہوتے ہیں۔
اگر ’’تعلیمی انقلاب‘‘ کا جائزہ لیں تو روزِ اول سے اب تک اپنی نگارشات، مشمولات، اچھوتے مضامین ، چھوٹے، بڑے تمام عمر کے بچّوں کے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔
سر ورق پر کبھی نصابی مواد، کبھی امتحانی رہنمائی تو کبھی کسی تعلیم یافتہ مثالی رہنما کی رہبری طلباء وطالبات کو نصیب ہوئی ہے۔
اندرونی صفحات میں جذباتی ذہانت، ناکامی سے سبق ، خصوصی مضمون، مطالعہ کی عادت، سبق آموز مثالی کہانیاں، انبیائِ کرام کی مختصر سوانح یکے بعد دیگرے مطالعے میں رہی ہیں۔
صلاحیتوں کی پہچان، طلباء کے مسائل وحل، کلاس روم سے باہر کی سرگرمیاں، طلباء کی شرکت، عنوان کے ذریعے طلباء وطالبات کو لکھنے پڑھنے اور سوچنے کی صلاحیت کو پروان چڑھانا۔
طلباء وطالبات کی اسکولی سرگرمیاں وغیرہ وغیرہ تعلیمی انقلاب کاحصہ رہی ہیں۔
جو باتیں مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں وہ ہیں طلباء وطالبات کی بلند حوصلگی، قدم قدم پر رہنمائی اور ایک اچھا پڑھا لکھا بیدار شہری بنانا۔
محترم قارئین! ذرا غور کریں اگر کسی طالب علم کی چند سطریں مع تصویر اخبار میں شائع ہوجاتی ہیں تو اس طالب علم کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔
اسی طرح مختصر انگریزی کہانی، کچھ الفاظ ومعنی طالب علم کے لیے مشعلِ راہ بنتے ہیں۔
بالفرض ہم اس ۹ برس کی میعاد کو اپنے آغاز سے پرکھنے کی کوشش کریں تو تعلیمی انقلاب کے قاری طلباء درجہ آٹھ، نو اور دس برس کے رہے ہوں گے جو آج اپنی اعلیٰ تعلیم کو مکمل کرچکے ہوں گے۔
یا وہ فائنل ایئر میں ہوں گے۔
ویسے تو یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے اور ہر دن نئے قاری طلباء کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
لیکن جو صفِ اوّل کے قاری طلباء جو آج اپنی عملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہیں ان کے لیے تعلیمی انقلاب نے جس سنجیدہ فکری کے ساتھ رہبری ورہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے اس سے انھیں اپنا تعلیمی سفر طئے کرنے میںجو سہولت و معاونت فراہم ہوئی وہ اسے تازندگی فراموش نہیں کرسکتے۔
ویسے تو ادارہ ٔ انقلاب نے ہمیشہ ہی ملت کی تعلیمی ترقی کے لئے نت نئے تجربات کیے ہیں اور وہ ہماری آج کی اجتماعی تعلیمی ترقی میں بڑی حد تک معاون بھی ثابت ہوئے ہیں۔
لیکن تعلیمی انقلاب کا اجراء اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قوم وملت نے انقلاب کی ہر پہل پر نعرۂ آفرین بلند کیا ہے۔
اس ضمن میں تعلیمی انقلاب اب تو تعلیم کے میدان کا سرخیل ثابت ہوتا جارہا ہے۔ آج ۹ ؍ برس کے پہلے پڑائو پر جب ہم ایک اجمالی جائزہ لے رہے ہیں تو ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ آج تعلیمی انقلاب ہماری نسل نو کا بہترین رہنما، رہبر اور محرک ثابت ہوا ہے۔ ٹیم انقلاب بڑی حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔
البتہ یہ تو محض ابتدا ہے ۔ ان شاء اللہ جب ہم تعلیمی انقلاب کی دوسری دہائی کے تکمیل کے مرحلے میں ہوں گے تو ہم ایک تعلیم یافتہ و ترقی یافتہ قوم کی حیثیت سے گفتگو کریں گے اور اس کا سہرا بڑی حد تک تعلیمی انقلاب اور اس کے کار پرداران کے سر ہی بندھے گا۔