انجمنِ محبانِ ادب کی جانب سے معروف ڈراما نگار سراج دلار کا اعزاز و اکرام
Author -
personحاجی شاھد انجم
ستمبر 19, 2026
0
share
مالیگاؤں (پریس ریلیز ) انجمنِ محبانِ ادب، مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام شہر کی علمی، تعلیمی، فنی و ادبی دنیا کی فعال اور معتبر شخصیت، معروف ڈراما نگار و سبکدوش معلّم جناب سراج دلار صاحب کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ایک خصوصی اعزازی و افسانوی نشست کا انعقاد اردو میڈیا سینٹر، مالیگاؤں میں کیا گیا۔
پروگرام کا آغاز عزیز الرحمن ماہی صاحب کے فرزند عبید الرحمن کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں صدرِ نشست جناب آصف سبحانی صاحب، صاحبِ اعزاز جناب سراج دلار صاحب اور تمام معزز مہمانانِ کرام کا استقبال کیا گیا۔
نشست کی صدارت معروف ماہرِ خطاط و ڈراما نویس جناب آصف سبحانی صاحب نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر ساجد نعیم صاحب، ریسرچر و اسسٹنٹ پروفیسر، منصورہ انجینئرنگ کالج، جناب جاوید انصاری صاحب، آکاشوانی، جلگاؤں، اور سینئر صحافی جناب خیال انصاری صاحب شامل تھے۔
جناب سراج دلار صاحب نے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے پرائمری اسکول میں بحیثیتِ معلّم طویل عرصے تک اپنے فرائض انجام دیے۔ سبک دوشی کے بعد بھی وہ تعلیمی، ادبی، فنی اور ثقافتی سرگرمیوں سے مسلسل وابستہ ہیں۔ وہ شہر کے قدیم و معتبر تعلیمی ادارے ’’انجمنِ معین الطلباء‘‘ کے سیکریٹری کی حیثیت سے تعلیمی میدان میں سرگرمِ عمل ہیں، جبکہ ’’مالیگاؤں آرٹس اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن‘‘ کے صدر کی حیثیت سے شہر کی فنی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اپنا نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
جناب سراج دلار صاحب ایک باصلاحیت ڈراما نگار بھی ہیں۔ ان کے ڈراموں کا مجموعہ ’’چوپال‘‘ منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ نشست کے افسانوی مرحلے میں شہر کے منتخب اہلِ قلم عزیز الرحمن ماہی نے ’’کتے‘‘، صابر گوہر نے ’’سیماب‘‘، عزیز اعجاز نے ’’پیتل کا لوٹا‘‘ اور انجمنِ محبانِ ادب کے صدر ہارون اختر نے ’’دوسرے پہر کا مسافر‘‘ کے عنوان سے اپنے اپنے افسانے پیش کیے۔ تمام پیش کیے گئے افسانوں پر ڈاکٹر ساجد نعیم صاحب، شفیق محسن صاحب، شکیل بھارتی صاحب، شبیر ماہر صاحب اور ہارون اختر صاحب نے جامع، بصیرت افروز اور بہترین تبصرے پیش کیے۔ مقررین نے افسانوں کے فنی، فکری، اسلوبی اور موضوعاتی پہلوؤں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے افسانہ نگاروں کی تخلیقی کاوشوں کو سراہا۔ افسانوں کی پیشکش اور تنقیدی گفتگو کے بعد اعزاز و اکرام کا سلسلہ شروع ہوا۔ جناب سراج دلار صاحب کی ہمہ جہت تعلیمی، فنی و ادبی خدمات کے اعتراف و تحسین کے طور پر ان کی خدمت میں میمینٹو، گلدستہ، شال اور تحائف پیش کیے گئے۔ اس موقع پر جناب آصف سبحانی صاحب نے جناب سراج دلار صاحب کی شخصیت اور فن پر ایک مؤثر خاکہ پیش کیا اور ان کی تعلیمی، ادبی، ڈرامائی اور ثقافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اسی موقع پر جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے ڈاکٹر ساجد نعیم صاحب کو ’’بیسٹ ریسرچر ایوارڈ‘‘ تفویض کیے جانے پر انجمنِ محبانِ ادب کی جانب سے ان کا بھی خصوصی استقبال اور اعزاز کیا گیا۔ ان کی تحقیقی و علمی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں تہنیت پیش کی گئی اور مزید علمی و تحقیقی کامیابیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ نشست کے دوران سینئر صحافی جناب خیال انصاری صاحب نے پچاس برسوں سے اسٹیج تھیٹر کے لیے اپنا شب و روز وقف کرنے والے ممبئی کے ممتاز ڈراما نویس خالد شاہین کے انتقال پر تعزیتِ مسنونہ پیش کی اور ان کی ڈرامائی و تھیٹر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس اعزازی و افسانوی نشست میں شہر کی علمی، ادبی، صحافتی اور ثقافتی دنیا سے تعلق رکھنے والی متعدد اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ ان میں احسان الرحیم اخلاق سر، زاہد اختر، علی اکبر سر، ماہرِ افسانہ نگار عظمت اقبال، صادق اسد، معیز بادشاہ، حامد سبحانی اور تھیٹر سے وابستہ دیگر شخصیات شامل تھیں۔ معزز اہلِ قلم، دانش وروں اور فن کاروں کی شرکت نے اس ادبی محفل کی رونق اور وقار میں مزید اضافہ کیا۔ نشست کی نظامت عزیز اعجاز نے بحسن و خوبی انجام دی۔ پروگرام کے اختتام پر انجمنِ محبانِ ادب کے صدر و اراکین کی جانب سے تمام مہمانانِ کرام، اہلِ قلم، فن کاروں اور شرکائے نشست کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا۔ رات دیر گئے یہ بامقصد ادبی و اعزازی نشست اختتام پذیر ہوئی۔