ریئل لائف بمقابلہ ریل لائف : سوشل میڈیا کی لت اور ذہنی سکون کا زوال لائکس اور فالوورز کی دوڑ میں گم ہوتی نوجوانوں کی ذہنی صحت مالیگاؤں ( ڈاکٹر ساجد نعیم، منصورہ انجینئرنگ کالج)
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 27, 2026
0
share
آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے معلومات، تعلیم، تفریح اور رابطے کے نئے راستے کھولے ہیں۔ لیکن جب یہی سہولت ہماری عادت سے بڑھ کر لت بن جاتی ہے تو ہماری حقیقی زندگی، ذہنی سکون، خاندانی تعلقات اور نفسیاتی صحت متاثر ہونے لگتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زندگی حقیقت میں جی رہے ہیں یا دوسروں کی ریل لائف دیکھتے دیکھتے اپنی زندگی سے غیر مطمئن ہوتے جا رہے ہیں؟ ریئل اور ریل لائف کا فرق: حقیقی زندگی یعنی ریئل لائف میں خوشی اور غم، کامیابی اور ناکامی، محنت اور جدوجہد، بیماری اور صحت، آسانی اور مشکلات سب شامل ہیں۔ یہ زندگی حقیقت پر مبنی ہوتی ہے، جہاں ہر کامیابی کے پیچھے وقت، محنت اور قربانی ہوتی ہے۔اس کے برعکس، ریل لائف یعنی سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی زندگی اکثر خوب صورت لمحات، کامیابیوں، مہنگے لباس، شاندار گھروں، سیاحت، تقریبات اور مسکراتے چہروں تک محدود ہوتی ہے۔ لوگ عموماً اپنی زندگی کے بہترین لمحات شیئر کرتے ہیں، جبکہ ان کی پریشانیاں، ناکامیاں، تنہائی اور مشکلات اکثر پردے کے پیچھے رہ جاتی ہیں۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم دوسروں کی منتخب کردہ خوب صورت تصویروں اور ویڈیوز کا موازنہ اپنی پوری حقیقی زندگی سے کرنے لگتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی زندگی مکمل حقیقت نہیں، بلکہ حقیقت کا ایک منتخب حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ دوسروں سے موازنہ اور احساسِ کمتری: سوشل میڈیا پر کسی کو نئی گاڑی خریدتے، کسی کو بیرونِ ملک سفر کرتے، کسی کو مہنگے ہوٹل میں کھانا کھاتے اور کسی کو غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے دیکھ کر ہم اپنی زندگی کا موازنہ اس سے کرنے لگتے ہیں۔آہستہ آہستہ ذہن میں ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ میرے پاس یہ سب کیوں نہیں ہے؟ میری زندگی دوسروں جیسی خوش حال کیوں نہیں؟ میرے کام اور کامیابی کو اتنی توجہ کیوں نہیں ملتی؟ میرے دوست مجھ سے زیادہ کامیاب کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ یہ مسلسل موازنہ احساسِ کمتری، حسد، مایوسی اور اپنی زندگی سے عدم اطمینان کا سبب بن سکتا ہے۔ انسان اپنی حقیقی کامیابیوں اور نعمتوں کو نظر انداز کرکے ان چیزوں کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے جو اسے دوسروں کے پاس نظر آتی ہیں۔ یاد رکھیے! ہر شخص کا سفر، حالات، وسائل اور منزل مختلف ہوتے ہیں۔ کسی دوسرے کی کامیابی کو اپنی ناکامی سمجھنا اپنے ساتھ ناانصافی ہے۔ سوشل میڈیا کی لت اور ڈپریشن: سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال بعض افراد میں ذہنی دباؤ، تنہائی، بے چینی، نیند کی خرابی اور افسردگی کی علامات سے وابستہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر سوشل میڈیا صارف ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتا اور ڈپریشن کی وجوہات متعدد ہو سکتی ہیں۔ جب کوئی شخص بار بار اپنے موبائل پر نوٹیفکیشن چیک کرتا ہے، لائکس اور کمنٹس کا انتظار کرتا ہے یا ویڈیوز دیکھتے ہوئے گھنٹوں گزار دیتا ہے تو اس کی توجہ اور وقت متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر اس کے نتیجے میں نیند کم ہو، پڑھائی یا کام متاثر ہو، ورزش چھوٹ جائے اور خاندان سے گفتگو کم ہو جائے تو ذہنی صحت پر منفی اثرات بڑھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں میں دوسروں کی منظوری کی خواہش، ظاہری خوب صورتی کے غیر حقیقی معیار اور آن لائن مقبولیت کی دوڑ ذہنی دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے۔ بعض افراد کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ان کی اہمیت ان کے لائکس، فالوورز اور ویوز سے طے ہوتی ہے، حالانکہ انسان کی اصل قدر ان اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ موبائل کی اسکرین کے پیچھے بڑھتی ہوئی تنہائی: ایک ہی کمرے میں بیٹھے خاندان کے افراد ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے اپنے اپنے موبائل میں مصروف نظر آتے ہیں۔ دوست ملتے ہیں، مگر گفتگو کے بجائے تصویریں اور ویڈیوز بنانے میں وقت گزار دیتے ہیں۔ کھانے کی میز، خاندانی تقریبات اور سفر کے دوران بھی توجہ اکثر اسکرین پر رہتی ہے۔ یہ صورتِ حال ایک عجیب تضاد پیدا کرتی ہے: ہم دنیا بھر کے لوگوں سے آن لائن رابطے میں ہوتے ہیں، لیکن اپنے قریب بیٹھے لوگوں سے جذباتی طور پر دور ہوتے جا سکتے ہیں۔ حقیقی تعلقات صرف پیغامات، ایموجیز اور لائکس سے مضبوط نہیں ہوتے۔ ان کے لیے وقت، توجہ، اعتماد، ہمدردی اور آمنے سامنے گفتگو ضروری ہے۔ کبھی کسی پریشان شخص کی بات خاموشی سے سن لینا سینکڑوں آن لائن تبصروں سے زیادہ اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ نوجوان نسل اور والدین کی ذمہ داری: نوجوانی شخصیت کی تعمیر، تعلیم، خود اعتمادی اور مستقبل کے خوابوں کا اہم مرحلہ ہے۔ اس عمر میں سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے غیر حقیقی معیار نوجوانوں کی سوچ اور خود اعتمادی کو متاثر کر سکتے ہیں۔والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو صرف موبائل سے دور رہنے کی نصیحت نہ کریں، بلکہ انہیں سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں سے آگاہ بھی کریں۔ بچوں کے ساتھ دوستانہ گفتگو، کھیل کود، مطالعے، تخلیقی سرگرمیوں اور خاندانی وقت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل آگاہی اور ذہنی صحت کے بارے میں گفتگو کو اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ طلبہ یہ سمجھ سکیں کہ آن لائن مقبولیت اور حقیقی کامیابی دو مختلف چیزیں ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال میں توازن کیسے پیدا کریں؟ سوشل میڈیا کو مکمل طور پر ترک کرنا ہر شخص کے لیے ضروری نہیں، لیکن اس کا متوازن اور بامقصد استعمال بے حد اہم ہے۔ روزانہ استعمال کی حد مقرر کریں: غیر ضروری اسکرولنگ کے لیے وقت طے کریں اور بتدریج اسے کم کریں۔ صبح اٹھتے ہی موبائل نہ دیکھیں: دن کا آغاز دعا، مطالعے، ورزش یا خاندان کے ساتھ گفتگو سے کریں۔ غیر حقیقی مواد سے فاصلہ رکھیں: ایسے اکاؤنٹس کو اَن فالو یا میوٹ کریں جو مسلسل احساسِ کمتری، بے چینی یا عدم اطمینان پیدا کرتے ہیں۔ سونے سے پہلے اسکرین سے دور رہیں: رات کے وقت موبائل کا استعمال محدود کریں تاکہ نیند کا معمول بہتر ہو سکے۔ حقیقی تعلقات کو ترجیح دیں: دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ وقت گزاریں، براہِ راست گفتگو کریں اور ان کی بات توجہ سے سنیں۔ اپنی کامیابیوں کی قدر کریں: اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی زندگی سے کرنے کے بجائے اپنے گزشتہ حالات سے کریں۔ یہ دیکھیں کہ آپ نے کیا سیکھا اور کس پہلو میں بہتری لائی ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو حقیقی دنیا میں استعمال کریں: مطالعہ، کھیل، تحقیق، ہنر سیکھنے، سماجی خدمت اور تخلیقی سرگرمیوں کے لیے وقت نکالیں۔ ضرورت پڑنے پر مدد حاصل کریں: اگر اداسی، بے چینی، تنہائی یا نیند کے مسائل مسلسل برقرار رہیں اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو ماہرِ نفسیات یا مستند ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ کریں۔ اصل خوشی کہاں ہے؟ زندگی کی اصل خوب صورتی کسی تصویر کے نیچے ملنے والے ہزاروں لائکس میں نہیں، بلکہ والدین کی دعاؤں، دوستوں کی مخلصانہ رفاقت، بچوں کی مسکراہٹ، محنت سے حاصل ہونے والی کامیابی اور ذہنی سکون میں پوشیدہ ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر خوشی کی تصویر بنائی جائے، ہر سفر کو سوشل میڈیا پر دکھایا جائے یا ہر کامیابی پر لوگوں کی منظوری حاصل کی جائے۔ کچھ خوشیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں صرف محسوس کیا جاتا ہے، دکھایا نہیں جاتا۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا ایک ذریعہ ہے، زندگی کا متبادل نہیں۔ دوسروں کی زندگی دیکھنے میں اتنے مصروف نہ ہو جائیں کہ اپنی زندگی جینا ہی بھول جائیں۔ ایک پیغام: ریل لائف چند سیکنڈ کی ویڈیو ہو سکتی ہے، لیکن ریئل لائف ہماری پوری کہانی ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی چمک دمک کو اپنی زندگی کا معیار بنانے کے بجائے اپنی صلاحیتوں، رشتوں، صحت اور ذہنی سکون پر توجہ دیں۔ اپنی زندگی کو دوسروں کی تصویروں سے نہیں، اپنی محنت، کردار اور حقیقی خوشیوں سے خوب صورت بنائیں۔کیونکہ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ دنیا ہمیں کتنا دیکھتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو کتنے سکون، مقصد اور اطمینان کے ساتھ گزارتے ہیں۔آئیے! اسکرین کی مصنوعی دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی کے رنگوں کو پہچانیں، اپنے رشتوں کو وقت دیں اور ذہنی صحت کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ x