خان حسنین عاقب کو عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر بین الاقوامی اعزاز افغان ادبی و ثقافتی ایسوسی ایشن، بیلاروس کی جانب سے ’’لوحِ تقدیر و سپاس‘‘ پیش؛
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 14, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر معروف شاعر، ادیب، محقق، مترجم اور ماہرِ تعلیم خان حسنین عاقب کو ان کی تدریسی خدمات، نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے خلوص و ایثار اور معلم کے مقدس منصب سے والہانہ وابستگی کے اعتراف میں بین الاقوامی اعزاز سے نوازا گیا۔ بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں افغان ادبی و ثقافتی ایسوسی ایشن کی جانب سے انہیں ’’لوحِ تقدیر و سپاس‘‘ پیش کی گئی ۔7 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اس سند میں خان حسنین عاقب کی تدریسی وابستگی، علمی خدمات اور آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ان کے خلوص، محبت اور ایثار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے معلم کے مقدس مقام کے احترام میں یہ اعزازی لوح پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو قابلِ ستائش قرار دیا۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے تدریسی شعبے کے 14 ممتاز اساتذہ کی خدمات کا بھی اعتراف کیا گیا۔ خان حسنین عاقب نے تدریس کے ساتھ اردو شاعری، تحقیق، ترجمہ اور ادب کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے تعلیم کو محض نصابی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت اور ان میں علم و آگہی کے فروغ کو اپنی جدوجہد کا اہم حصہ بنایا۔ ان کی علمی و ادبی کاوشوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ان کی نمایاں کامیابیوں میں حکومتِ مہاراشٹر کا مثالی معلم ایوارڈ اور مراکش کی بین الاقوامی ادبی و ثقافتی تنظیم کی جانب سے فروغِ ادب کے لیے اعزاز بھی شامل ہیں۔ مختلف علمی، ادبی اور تعلیمی اعزازات ان کی ہمہ جہت خدمات کا اعتراف ہیں۔ خان حسنین عاقب کو پیش کی جانے والی ’’لوحِ تقدیر و سپاس‘‘ اس حقیقت کی عکاس ہے کہ علم و ادب کی خدمت کسی جغرافیائی سرحد کی پابند نہیں ہوتی۔ ان کی یہ بین الاقوامی پذیرائی نہ صرف ان کی ذاتی علمی و تدریسی جدوجہد کا اعتراف ہے بلکہ اردو زبان و ادب کے لیے بھی باعثِ افتخار ہے۔ بلاشبہ، ایسے اہلِ علم کی حوصلہ افزائی اساتذہ کے وقار میں اضافے اور نئی نسل کی فکری و اخلاقی تعمیر کے لیے ایک روشن مثال ہے۔