مہاراشٹر میں خشک سالی۔۔۔ ایک سنگین بحران اور ہماری ذمہ داری از قلم۔اصفیہ پٹیل، اورنگ آباد
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 14, 2026
0
share
خشک سالی محض بارش کی کمی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا بحران ہے جو انسان، زراعت، معیشت اور معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے۔ آج مہاراشٹر کے عوام ایک بار پھر اسی سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ تقریباً 53 سال قبل، 1973 میں، ریاست نے ایسی ہی شدید خشک سالی کا سامنا کیا تھا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ دیہی علاقوں کے لوگ اس بحران کی شدت کو براہِ راست محسوس کر رہے ہیں، لیکن شہری علاقوں میں رہنے والے بہت سے لوگ اب بھی اس مسئلے کی سنگینی سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔26 ستمبر 2026 کو حکومتِ مہاراشٹر نے ریاست کے کل 358 تعلقوں میں سے 265 تعلقوں میں خشک سالی کا اعلان کیا۔ اس طرح ریاست کا تقریباً 75 فیصد حصہ خشک سالی کی زد میں آ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار خود اس بحران کی سنگینی بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔حکومتِ مہاراشٹر نے متاثرہ کسانوں اور عوام کے لیے متعدد امدادی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں طلبہ کی فیس میں رعایت یا معافی، قرضوں کی وصولی پر روک، بجلی کے بلوں میں رعایت اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات یقیناً قابلِ قدر ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف یہ اقدامات اس بحران سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں؟ مراٹھواڑہ کے بعض علاقوں میں گزشتہ چند دنوں کے دوران بارش کی امیدیں دم توڑنے کے بعد کچھ کسانوں نے انتہائی قدم اٹھایا۔ ان حالات کو صرف قرض، تعلیمی اخراجات یا بجلی کے بلوں کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے، اگلی فصل تک اپنے خاندان کا پیٹ کیسے پالا جائے اور زندگی کیسے گزاری جائے؟خشک سالی کا اثر اب صرف کسانوں تک محدود نہیں رہے گا۔ اس بحران سے متوسط طبقہ اور نچلا متوسط طبقہ بھی متاثر ہوگا۔ پانی کی قلت، زرعی پیداوار میں کمی اور اشیائے ضروریہ کی سپلائی پر پڑنے والے اثرات کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں مہنگائی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف دیہی علاقوں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومت اکیلے ہر مسئلے کا حل نہیں نکال سکتی۔ یہ سوچ درست نہیں کہ ہر مشکل کی ذمہ داری صرف حکومت کی ہے۔ ہم بحیثیت شہری بھی اس ملک اور معاشرے کا حصہ ہیں، اس لیے بحران کے وقت ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق اپنا کردار ادا کریں، خواہ اقتدار میں کوئی بھی حکومت ہو۔ہم مالی طور پر بھی تعاون کر سکتے ہیں اور اپنے غیر ضروری اخراجات کو کچھ عرصے کے لیے محدود کرکے بھی اس مشکل گھڑی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر تفریحی دورے کچھ عرصے کے لیے ملتوی کیے جا سکتے ہیں، شادی بیاہ کی تقریبات میں غیر ضروری اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں اور پرتعیش یا غیر ضروری اشیاء کی خریداری کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔اس وقت ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشی یا صرف حکومت پر تنقید کرنے کے بجائے اس بات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اس بحران کو کم کرنے کے لیے عملی طور پر کیا کر سکتے ہیں۔ میری نظر میں اس کے لیے ایک سادہ اور مؤثر قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ ہر شہر اور قصبے میں 15 سے 20 ایسے افراد کا ایک رضاکار گروپ تشکیل دیا جائے جو مالی طور پر استطاعت رکھتے ہوں اور سماجی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ یہ گروپ اپنے آس پاس کے خشک سالی سے متاثرہ دیہی علاقوں کی نشاندہی کرے اور وہاں بنیادی ضروریات کا جائزہ لے۔ جہاں خوراک کی ضرورت ہو وہاں خوراک پہنچائی جائے، جہاں پانی کا مسئلہ ہو وہاں پانی کی فراہمی میں تعاون کیا جائے، جہاں طبی سہولیات کی ضرورت ہو وہاں طبی امداد کا انتظام کیا جائے، اور جہاں مویشیوں کے لیے چارے یا پانی کا مسئلہ ہو وہاں ان کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے مدد فراہم کی جائے۔ اگر معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد، سماجی کارکن، نوجوان اور عام شہری اپنی اپنی استطاعت کے مطابق آگے بڑھیں تو ہم اس مشکل وقت میں ہزاروں خاندانوں کے لیے سہارا بن سکتے ہیں۔ یہ وقت صرف حکومت سے سوال کرنے کا نہیں بلکہ اپنے آپ سے بھی سوال کرنے کا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟میری اس تحریر کا مقصد محض خشک سالی کی صورتحال کی نشاندہی کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہے۔ اگر اس مضمون کو پڑھنے کے بعد ہمارے شہر میں صرف ایک گروپ بھی تشکیل پاتا ہے اور وہ خشک سالی سے متاثرہ کسی ایک گاؤں یا چند خاندانوں کی مدد کے لیے عملی قدم اٹھاتا ہے، تو میں سمجھوں گی کہ اس مضمون کا مقصد کامیاب ہوگیا۔آئیے، اس بحران میں صرف تماشائی نہ بنیں، بلکہ اپنا کردار ادا کریں۔