کارنجہ لاڈ، دو اردو صدر مدرسین سمیت تین افراد کی حادثے میں موت تعلیمی حلقوں میں سوگ کی لہر، اساتذہ کی انتظامی و آن لائن ذمہ داریوں پر بھی غور کی ضرورت
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 14, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) کارنجہ نگر پریشد کے زیرِ انتظام اردو پرائمری اسکول نمبر 1 اور نمبر 2 کے دو صدر مدرسین سمیت تین افراد کی بدھ، 14 اکتوبر کو شیلوبازار کے قریب تاپووَن پھاٹے پر پیش آئے بھیانک سڑک حادثے میں موت ہوگئی۔ اس حادثے میں اسکول نمبر 1 کے صدر مدرس سید عابد حسین سید رؤف (56 سال)، اسکول نمبر 2 کے صدر مدرس ناظم محمد نور محمد (57 سال) اور بجاج پلسر موٹر سائیکل کے ڈرائیور وجے گووند چوہان، ساکن پمپل گاؤں، کی جان چلی گئی۔ اس افسوسناک واقعے سے کارنجہ شہر کے تعلیمی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، دونوں صدر مدرسین اسکولوں کی اسٹاف منظورہ فہرست (سنچ مانیتا) سے متعلق سرکاری کام کے سلسلے میں کارنجہ سے واشم کے ایجوکیشن افسر (پرائمری)کے دفتر جارہے تھے۔ اسی دوران شیلوبازار کے قریب تاپووَن پھاٹے پر سامنے سے آنے والی بجاج پلسر موٹر سائیکل نے ان کی موٹر سائیکل کو زور دار ٹکر مار دی۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ تینوں افراد کی موت واقع ہوگئی۔ اطلاع ملتے ہی کارنجہ نگر پریشد کے عوامی نمائندے، اساتذہ اور متوفین کے رشتہ دار جائے حادثہ پر پہنچے۔ ضروری کارروائی کے لیے تینوں کو منگرول پیر کے دیہی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس دل خراش حادثے نے اساتذہ کی بڑھتی ہوئی انتظامی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی غور و فکر کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ درس و تدریس کے بنیادی فریضے کے علاوہ اساتذہ اور صدر مدرسین کو مختلف سرکاری رپورٹوں، ریکارڈ کی تکمیل، طلبہ سے متعلق معلومات کے اندراج، مختلف پورٹلز پر آن لائن ڈیٹا اپ لوڈ کرنے اور مقررہ مدت میں انتظامی کارروائیاں مکمل کرنے جیسے متعدد کام انجام دینے پڑتے ہیں۔ ان اضافی ذمہ داریوں کے باعث اساتذہ پر ذہنی دباؤ بڑھنے اور تدریسی سرگرمیوں کے لیے دستیاب وقت متاثر ہونے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم، اس حادثے کی وجہ سڑک پر پیش آنے والا تصادم ہے اور غیر تدریسی کاموں کے دباؤ کو اس حادثے کی براہِ راست وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے باوجود یہ واقعہ اس اہم سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اساتذہ کو تدریسی فرائض کے ساتھ غیر ضروری انتظامی کارروائیوں اور مسلسل آن لائن کاموں کے اضافی بوجھ سے کس طرح راحت فراہم کی جاسکتی ہے۔ تعلیمی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کو کاغذی کارروائی اور ڈیجیٹل اندراجات میں الجھائے رکھنے کے بجائے درس و تدریس پر توجہ مرکوز کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ دونوں صدر مدرسین کے اچانک انتقال پر اساتذہ، تعلیمی حلقوں اور شہریوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری تعلیمی کام کے سلسلے میں سفر کے دوران پیش آنے والے اس سانحے کو کارنجہ نگر پریشد اور تعلیمی شعبے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جارہا ہے۔ مرحومین کی تعلیمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تینوں مرحومین کی مغفرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)