کیپٹن حمید کے لیے اس سے پُر لطف ڈیوٹی اور کیا ہو سکتی تھی؟ وہ سر پٹ دوڑتا ٹیگم گڑھ پہچ گیا۔ کرنل فریدی نے موبائل پر پورا ڈاٹا سینڈ کیا تھا۔ نام رضیہ خانم۔ ٹیکم گڑھ آرٹس کالج میں سائیکالوجی کی اسٹوڈینٹس ۔ حمید کو اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی تھی۔ فریدی کے مطابق رضیہ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ حمید کو اس کی سیکورٹی کا بھی خیال رکھنا تھا۔ ہمیشہ اس کے آس پاس ہی رہنا تھا۔ حمید نے جب پہلی بار رضیہ کو کالج کے گیٹ پر دیکھا تو سانسیں رکنے لگی۔ جینز اور گلابی ٹی شرٹ میں وہ حسن کا پیکر معلوم ہو رہی تھی۔ لیکن چہرے پر ایک بے نام اداسی گویا چاند کو گہنائے جارہی تھی۔ حمید اس اداسی کو کوئی نام نہ دے سکا۔ جب رضیہ اسکوٹی سے کالج آتی تو حمید کالج کے مقابل کافی شاپ کی ونڈو ٹیبل پر ہوتا۔ جب تین بجے کالج ٹائم ختم ہوتا تو وہ موبائل شاپ کے آئینے میں اسے دیکھ رہا ہوتا۔ رضیہ ٹیکم گڑھ کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک معمولی سے بنگلے میں اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی جو ایک ادھیڑ عمر خاتون تھی۔ کالج سے واپسی پر تقریبا ڈیڑھ گھنٹے بعد فریش ہو کر رضیہ شلوار قمیض میں ملبوس شہر کے ایک پاش علاقے میں جاتی جہاں ایک سائیکو کنسلٹنٹ ڈاکٹر ارجن بھونسلے کی سائیکاٹری ہاسپٹل جاتی۔ یہ ہاسپٹل کئی منزلوں پر مشتمل تھا۔ اوپری منزلوں میں سیریس مریض ایڈمٹ ہوتے تھے۔ مزید تحقیق سے پتہ چلا کہ رضیہ ڈاکٹر ارجن بھونسلے کے پاس سائیکو تھراپی کے لئے آتی تھی۔ ابھی اس کی کاؤنسلنگ چل رہی تھی۔ حمید کو اب اس کی بے نام اداسی کا مطلب سمجھ میں آیا۔ وہ کسی نفسیاتی واہمے کا شکار تھی۔
شام میں اپنے ہوٹل آکر حمید، کرنل فریدی کو سارے ویڈیوز، آڈیوز، امیجیس واٹس ایپ پر سینڈ کرتا۔ آج صبح اچانک فریدی کی کال آئی۔ وہ کہہ رہا تھا۔ " رضیہ سے دوستی گانٹھو۔ اس سے زیادہ سے زیادہ قریب رہو۔ یہ ہفتہ اس کی جان کےلیے انتہائی خطرناک ہے۔ اسے کوئی نفسیاتی مرض درپیش ہے۔ وہ ڈاکٹر ارجن بھونسلے سے کئی سیٹنگ میں کاؤنسلنگ کروا رہی ہے۔ " حمید نے سوال کیا۔ " کیا میں اصل مسئلہ جان سکتا ہوں"؟ تو فریدی نے مختصراً بتایا ڈاکٹر ارجن بھونسلے خودکشی کا رجحان رکھنے والوں کی بظاہر مدد کرتا ہے۔ اس کے ٹوئیٹر ہینڈل پر یہی درج ہوتا ہے کہ " خود کشی سے پہلے اس سے ضرور رجوع فرمائیں۔ " جواب میں حمید نے کہا۔
" یہ تو ایک بہتر کام ہے " پھر ارجن بھوسلے مشکوک افراد کی لسٹ میں کیسے آگیا۔ "؟
" بھول گئے۔ " فریدی کی آواز آئی " ابھی تک آٹھ خواتین کی لاشیں مل چکی ہیں۔ ریلوے پلیٹ فارمز پر ڈسٹ بِن میں، کھاڑیوں میں، گٹروں کے مین ہول میں، وہ بھی اس حال میں کے ہاتھ پیر اور سر کاٹ کر بوریوں میں بھر دیے گئے تھے۔ قتل سے پہلے ان بےچاریوں پر بے پناہ تشدد کیا گیا تھا۔ "
" لیکن کرنل صاحب۔ ڈاکٹر ارجن بھوسلے ایک شریف النفس اور مہذّب آدمی ہے۔ " حمید نے کہا۔
" ہاں حمید صاحب " فریدی کی طنز بھری آواز آئی۔ آج قاتلوں نے سیاست دانوں، فلم اسٹاروں، اور معالجوں کا روپ دھار رکھتا ہے۔ کس پر بھروسہ کریں۔ " اتنا کہہ کر فریدی نے کال کاٹ دی۔
" میڈم آپ خطرے میں ہیں". حمید نے رضیہ سے کہا۔ رضیہ اسکوٹی روک کر اپنے پیر سڑک پر ٹیک کر اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ سائکوتھراپی سے واپس آ رہی تھی۔ حمید نے فوراً اپنا کارڈ اس کے حوالے کردیا۔ کارڈ دیکھ کر وہ اس طرح چوکی جب کرنٹ لگ گیا ہو۔ پھر حمید کی ایما پروہ ایک کافی شاپ میں جا بیٹھے۔ کافی کے دوران وہ حمید کو بتا رہی تھی۔ میری ماں سنگل مدر ہیں۔ ان کا بوائے فرینڈ انھیں بارآور کر کے فرار ہو گیا۔ تب سے وہ اکیلے اسٹرگل کر رہی ہیں۔ انہوں نے صرف میرے لیے جیا ہے۔ نرس کا کام کرتی ہیں۔ مجھے ڈپریشن وراثت میں ملا ہے۔ خودکشی کا خیال بچپن سے اعصاب پر سوار ہے۔ ذرا سوچیں کیپٹن صاحب۔ جب سوسائٹی میں لوگ آپ کو حرامی کہہ کر پکارے تو کیسا فیل ہوگا۔؟ میں ڈاکٹر ارجن بھوسلے سے سائکوتھراپی کروا رہی ہوں۔ میں نے ان کے ٹوئٹر ہینڈل سے مدد لی تھی۔ " مجھے آپ کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا ہے" حمید بولا " آپ اپنا فون کی لوکیشن، میرے موبائل سے کنیکٹ کر والیں۔ آپ کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ سیریل کلر کا اگلا نشانہ آپ بھی ہو سکتی ہیں۔ " رضیہ بری طرح خوفزدہ ہوگئی۔
دوسرے دن کرنل فریدی نے ہوٹل پہنچ کر حمید کو پک اپ کیا۔ " حمید آج نتیجے کی شام ہے"۔ ریوالور ساتھ لیتے آنا۔ میں نے تمہارے ہوٹل کابل بے باق کر دیا ہے۔ تم رضیہ کے پیچھے جاؤ۔ میں تم سے زیادہ دور نہیں رہوں گا۔ فریدی اسے گھسیٹتا ہوا لے گیا۔ تھوڑی دیر بعد حمید، رضیہ کو فالو کرتا ہوا ہاسپٹل تک پہنچا۔ جوں ہی رضیہ ہاسپتال کے گیٹ کے اندر گئی، فریدی کہیں سے آ دھمکا۔ حمید اسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا۔ فریدی اسے گھسیٹتا ہوا ہاسپٹل کی پشت کی طرف دوڑا۔ اس نے حمید کو موبائل اسکرین پر بتایا جو ڈرون کیمرے سے کنیکٹ تھا۔ ڈرون محوِ پرواز تھا۔ انہوں نے کیمرے میں دیکھا۔ رضیہ کے ہاتھ پیر باندھ کر جانوروں کی کی طرح فرش پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ ہاسپٹل کا کنسلٹنگ روم تھا۔ رضیہ کی آنکھیں اُبلی پڑھ رہی تھیں۔ اس کے منہ میں کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔ ڈرون کھڑکی کے پاس معلّق تھا۔ ڈاکٹر ارجن بھوسلے کے ہاتھوں میں الیکٹرک کٹر تھا۔ ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ حمید کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ فریدی نے موبائل اسکرین کے ایک ڈاٹ پر انگلی سے ٹچ کیا۔ ڈرون کی گن سے ایک فائر ہوا، جو کھڑکی کے شیشے کو توڑتی ہوئی ڈاکٹر ارجن کے گھٹنے میں لگی۔ وہ دو زانو بیٹھ گیا۔ کٹر اس کے ہاتھوں سے پھسل کر دور جا پڑا۔ تبھی عقبی بھی دروازے پر فریدی نے چند فائرنگ کیے۔ تالا ٹوٹ گیا۔ فریدی دوڑتا ہوا اندر گھسا۔ حمید اس کے پیچھے تھا۔ فریدی ڈاکٹر ارجن کو ہتھکڑیاں لگا رہا تھا۔ اور حمید، رضیہ کی بندشیں کھول رہا تھا۔ " میں کیا کرتا"؟ ڈاکٹر ارجن قہقہے لگاتا ہوا کہہ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر جنون کے آثار تھے۔ " میری بزنس مین ماں روزانہ مجھے گھر پر اکیلےنوکر کے حوالے کر کے چلی جاتی۔ میں ایکسڈنٹیل چائلڈ تھا۔ بس پیدا ہو گیا تھا۔ میری عمر چھ سال تھی۔ وہ نوکر، ماں کے جانے کے بعد روزانہ میرے کمرے میں آتا اور میرا ریپ کرتا۔ مجھے دھمکاتا کے کسی کو بولا تو زبان جڑ سے کاٹ ڈالے گا۔ میں سوچتا اس عمر کے بچوں کے ساتھ شاید ایسا ہی سلوک ہوتا ہے۔ اس ریپ میں کئی سال گزر گئے۔ اس دوران کئی ملازم آئے اور گئے مگر میرا ریپ نہ رکا۔ ہوتا یہ کہ جانے والا ملازم آنے والے ملازم کو بتا جاتا۔ وہ بھی وہی کرتا جو ہوتا رہا۔ ایک دن میں نے ماں کو سب بتا دیا۔ پہلے تو اسے جھٹکا لگا پھر اس نے کہا معلوم ہے؟ " ایک مرد بھلا دوسرے مرد کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے"؟ اس وقت میری عمر دس سال تھی۔ سرتاپاہ غصے میں جلتا ہوا کیچن سے گوشت کاٹنے کا چھرا لے آیا اور اپنی ماں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ پہلا قتل میں نے اپنی ماں کا کیا تھا۔ گھر سے فرار ہوا۔ دنیا میں اپنی جگہ بنائی۔ اپنی شخصیت کو اس وقت تک چھپائے رکھتا جب تک کوئی شکار ہاتھ نہ آجاتا۔ اور آج تک میں نے دو درجن بےداغ قتل کئے۔ پولیس میرے پیروں کی دھول بھی نہ پا سکی۔ ٹیکنالوجی کے سبب میں نے اپنے ہدف کو آسانی سے پالیتا۔ آج کل فرسٹریشن کسی وبا کی طرح لوگوں کو لاحق ہے۔ میں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر بس اتنا ڈالا کے خودکشی کے خواہش مند حضرات رجوع فرمائے ۔ اور ہدف خود چل کر میرے پاس آتے۔ میں ہر کسی کو نہیں مارتا۔ میری ماں کی خاموشی کی سزا میں ہر اس عورت کو دیتا ہوں جس میں مجھے میری ماں کی ہلکی سی بھی مشابہت ہوتی ہے۔ جیسا کہ رضیہ میں ہے۔ مگر تم نے بے جامداخلت کردی۔ کرنل فریدی جو ٹھہرے۔ میں اور بھی قتل کروں گا۔ روکنا ہے تو روک لو یہ فل اسٹاپ نہیں۔ " ڈاکٹر ارجن دیوانہ وار قہقہے لگانے لگا۔
" حمید انسپکٹر رمیش کو فون کرو۔ اور کہو ایمبولنس ساتھ لیتا آئے۔ بہت خون بہہ رہا ہے۔ " فریدی نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ آنکھیں تو حمید کی بھی بھر آئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔







