آج مسلمانوں کے اندر قوم کے مسائل کے تئیں بے حسی، مسلمانوں پر جاری مظالم پر مجرمانہ خاموشی قوم پرست افراد کیلئے لمحہء فکریہ ہے فلسطین میں امریکہ اور اسرائیل مل کر آئے دن وہاں کے مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں اور مسجدِ اقصی کی کُھلے عام بے حرمتی کرتے ہیں تمام ظُلم و زیادتی کے باوجود مسلمانوں کے خون میں گردش نہیں ہوتی اور وہ غوابِ غفلت کی نیند میں سوئے ہوئے ہیں اب جب کہ پوری دنیا کے مسلمانوں میں بیداری آئی اور جگہ جگہ احتجاج ہونے لگے ہیں ہمارے لیے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف احتجاج کا صحیح طریقہ یہ ہیکہ دنیا بھر کے مسلمان امریکی اور اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں.
دونوں ممالک کے ذریعے مسلمانوں پر مظالم کی سب سے بڑی وجہ دونوں کا معاشی اعتبار سے مضبوط ہونا ہے اگر مسلمان ان دونوں ممالک کی اشیاء کے استعمال سے پرہیز کر لیں تو ان کی مسلمانوں کے خلاف جاری تمام سرگرمیاں خود بخود دم توڑتی نظر آئے گی اگر دنیا بھر کے مسلمان فلسطینی عوام کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تو کم ازکم اسرائیلی اور امریکی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں اگر ہمارے اندر تھوڑا سا بھی ضمیر ہوگا تو ہم اسرائیل اور امریکی ایشاء کااستعمال نہیں کرینگے آج مسلمان اسرائیل اور امریکہ کی جو اشیاء خرید کر اسے پیسے دیتے ہیں وہ انہیں پیسوں کا استعمال مسلمانوں کے قتل ِ عام میں استعمال کرتے ہیں.
آج اگر فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل مظالم ڈھا رہاہے اور اگر آج اسرائیل مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کر رہاہے تو اس کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہم سب ہیں کیونکہ مسلمانوں کا المیہ ہیکہ انھیں قوم کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اگر ان سے امریکی اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کیلئے کہا جاتا ہے تو بجائے اس پر غور وفکر کرنے کے اُلٹا بحث کرنے لگتے ہیں جنگ کے سبب اسرائیل کی معیشت برباد ہوتی جارہی ہے جی ڈی پی کمزرو ہورہی ہے اس لیے ہماری ملّی ذمہ داری بنتی ہے کہ اسرائیلی و امریکی اشیاء سے اجتناب کریں اور فلسطینی معصوم، بلبلاتے، چینختے ، لہولہان بھائی بہنوں، بچّوں کی مدد کریں۔




