حمید یونی ورسل ہاسپٹل میں بیٹھا موبائیل پر چیٹنگ کر رہا تھا۔ انور ایک بیڈ پر زخمی پڑا تھا۔ حمید کو نگرانی کا حکم ملا تھا۔ اچانک رشیدہ لنگڑاتی ہوئی روم میں داخل ہوئی۔ وہ سیدھے انور کے بیڈ پر رکی۔ " آہ انور کیا تمہارے ساتھ بھی؟ " رشیدہ نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا۔ اور انور کا ہاتھ اپنے رخسار پر رگڑنے لگی۔ " آہ حمید نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ اور خوبصورت نرس کی طرف دیکھ کر بولا " سنا تھا محبت اندھی ہوتی ہے آج پتہ چلا محبت لنگڑی بھی ہوتی ہے۔
نرس کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ رشیدہ نے نرس کے ٹرے سے قینچی اٹھائی اور حمید پر وار کرنا چاہا کہ فریدی اندر داخل ہوا۔ حمید نے چپی سادھ لی۔ رشیدہ نے اسے اپنی کہانی سنائی جب وہ آفس سے واپس آ رہی تھی تو ایک نو عمر لڑکے نے اس سے لفٹ مانگی۔ اس میلے کچیلے لڑکے پر اسے ترس آگیا۔ جو نیکر اور پھٹی ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا۔ "کیا بھوکے ہو بیٹا؟ " رشیدہ نے پیار سے ہوچھا؟ لڑکے نے سر ہلا دیا۔ "چلو کسی ریسٹورنٹ چلتے ہیں۔ " رشیدہ نے کہا اور لڑکے کو کیریئر پر بیٹھا لیا۔ اسکی چھٹی حس اسے بار بار آگاہ کر رہی تھی۔ اچانک اس نے اپنی پنڈلی پر شدید ترین درد محسوس ہوا۔ اس نے گھوم کر دیکھا۔ ناقابلِ یقین منظر نظر آیا۔ لڑکا سیٹ پر اوندھا لیٹا تھا اور رشیدہ کی پنڈلی میں اپنے دانت گاڑ رکھے تھے۔ اسکے حواس گم نہیں ہوئے تھے۔ اس نی جاری گاڑی پر ہی اپنے پیر کو جھٹکا دیا۔ لڑکا پنڈلی کا ایک گوشت کا ٹکڑا لئے گر پڑا۔ راہگیروں اور سواروں میں ایک شور مچا گیا مگر رشیدہ نے اسکی اسکوٹی نہیں روکی۔ شور مچا گیا۔ اسنے پلٹ کر دیکھا۔ ناقابلِ یقین منظر نظر آیا۔ لڑکا دوڑتا ہوا اسکوٹی کا پیچھا کر رہا تھا۔ اسکی رفتار اتنی تھی کہ اس کے چلتے پیر نظر نہیں آرہے تھے۔ جیسے ہواؤں میں تیر رہا ہو۔ لوگ اپنے اپنے موبائیل پر ویڈیو بنا رہے تھے۔ وہ برق رفتاری سے دانت نکوسے اسکوٹی کے قریب آیا۔ رشیدہ نے ایک بھرپور لات رسید کردی۔ لڑکا بائیں طرف نشیب میں لڑھکتا چلا گیا۔ رشیدہ راستے میں موجود یونی ورسل ہاسپٹل میں پہنچی۔ درجنوں نے بڑی مشکل سے خون کا دباؤ روکا تھا۔ جب وہ پنڈلی کی ڈریسنگ کروا رہی تھی تب ہی پتہ چلا کہ انور بھی چند گھنٹے پہلے ہاسپٹل میں شریک ہوا ہے۔ اس نے کرنل فریدی کو کال کیا۔ فریدی نے آنے میں دیر نہ لگائی۔ انور کی بھی اس سے ملتی جلتی کہانی تھی۔ وہ جب موٹر سائیکل اسٹارٹ کر رہا تھا تو اسی نیکر والے لڑے والے نے لفٹ مانگی تھی اور انھی حالات سے دوچار ہوا جس سے رشیدہ گزری تھی۔ فریدی نے ہاسپٹل میں حمید کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی۔
قاسم کی گاڑی جونہی گیٹ سے نکلی تو دیکھا عین گیٹ کے باہر ایک تھکا ہارا لڑکا پھٹی نیکر اور میلی ٹی شرٹ میں ملبوس کھڑا تھا۔ " اب سالا یہ کیا مصیبت ہے " قاسم بڑ بڑا یا۔ بچے کی ڈبڈبائی آنکھ دیکھ کر قاسم کو رحم آگیا۔ کار کا دروازہ کھول کر لڑکے کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔ لڑکا قاسم کے برابر آکر بیٹھ گیا۔ "کھانہ خاؤگے برخوردار؟" قاسم نے پیار سے پوچھا لڑکے نے سر ہلادیا۔ جونہی گاڑی شاہراہ پر آئی اچانک لڑکے نے قاسم کی گردن میں اپنے دانت گاڈ دیئے۔ "ابے او بوکڑ کی اولاد" قاسم نے ایک گندی سی گالی دی اور بریک لگا دیئے۔ ٹریفک میں بے شمار گاڑیوں کے بریک چر چرائے۔ قاسم کی گاڑی الٹنے سے بال بال بچی۔ اس نے لڑکے کی گردن پکڑ کر اسے اپنی گردن سے الگ کیا۔ لڑکا گردن کی ایک بوٹی کاٹنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ قاسم نے اسے کار کی کھڑکی سے باہر اچھا دیا۔ باہر بے پناہ شور مچا ہوا تھا۔ گاڑی ایک بھی انچ آگے یا پیچھے کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ یہ تو اچھا ہوا قاسم کی عقل کام کر رہی تھی۔ اسنے کرنل فریدی کو فون کیا۔ ایک ہاتھ سے گردن دبائے ہوئے تھا۔ اور خون بند کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ فریدی نے فوراً جواب دیا " میں فوراً ہیلی کاپٹر ایمبولینس بھیج رہا ہوں۔ " اور کچھ دیر میں قاسم بھی یونی ورسل ہاسپٹل پہنچ گیا۔
انسپکٹریس ریکھا جونہی آفس سے نکلنے لگی پھٹی نیکر اور میلی شرٹ میں ایک لڑکا اسکے سامنے آگیا۔ لڑکے کو ہونٹ سوکھے ہوئے تھے۔ ریکھا کو بڑا پیار آیا۔ اسنے اسے ایک کرسی پر بٹھایا۔ "کیا بھوکے ہو بیٹے؟ " لڑکے نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ریکھا آفس سے نکل کر فون پر آن لائن پزّا آرڈر کرنے لگی جب وہ اندر آئی تو اسکی حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ لڑکا اسکا پرسنل لیپ ٹاپ لیے بیٹھا تھا۔ اسکی انگلیاں اتنی تیزی سے کی پیڈ پر چل رہی تھیں کہ نظر جمانا مشکل تھا۔ لڑکے نے مسکرا کر اسے دیکھا لیپ ٹاپ سے پین ڈرائیو نکال کر جیب میں رکھ کر جانے لگا۔ ریکھا نے للکارا "پین ڈرائیو میرے حوالے کر دو" اور ریوالور تان لیا۔ مگر لڑکا نہ رکا۔ ریکھا نے فائر کردیا۔ گولی اسکی کھوپڑی میں لگی۔ ایسی آواز آئی جیسے لوہے سے لوہا ٹکرایا ہو۔ لڑکا ہنستا ہوا ریکھا تک آیا اور اسکی کلائی میں اپنے دانت گاڈ دیئے۔ کلائی سے خون کا فوارہ نکلے لگا۔ اور بڑے اطمینان سے جیسے آیا تھا چل دیا۔ ریکھا نے سختی سے اپنا رومال کلائی سے باندھا اور فریدی کو فون کرنے لگی۔ اسے بے حد افسوس تھا کہ لڑکا محکمے کے ٹاپ سیکرٹ لے گیا۔ فریدی نے اسکے لئے بھی ایک ایمبولینس بھیج دی جس نے اسے یونی ورسل ہاسپٹل پہنچا دیا۔
فریدی کی کیڈی لاک کوٹھی کی طرف رواں دواں تھی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ پچھلی نشست پر کوئی بیٹھا ہے شیشے میں دیکھا تو وہی معصوم درندہ بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ گویا کہ رہا اب تمہارا نمبر ہے۔ فریدی خوش دلی سے مسکرایا۔ لڑکے نے اچانک ڈرائیونگ سیٹ پر چھلانگ لگائی مگر ان دیکھی دیوار سے ٹکرا کر گر گیا۔ "صاحب زادے یہ میری کار ہے۔ درمیان میں ایک آن دیکھے اور آن بریک ایبل شیشہ ہے جو بلیٹ پروف بلکہ بم پروف ہے۔ تم چوہے دان میں پھنس چکے ہو۔ اور کوشش کرسکتے ہو۔ میں جانتا ہوں تم اے آئی ٹیکنالوجی کے روبوٹ ہو۔ تمھیں کنٹرول کیا جارہا ہے۔ اتنا کہ کر فریدی نے اپنے برابر رکھی ہوئی عجیب رائفل نکالی۔ بٹن دبا کر درمیانی شیشہ سرکایا ایک نال سے شعلے کی دھار لڑکے کے سر سے ٹکرائی اور وہ بے جانی سے ڈھے گیا۔ فریدی نے سیٹی بجاتے ہوئے ٹی وی آن کیا۔ خبروں سے پہلے ایک آواز آئی۔ کرنل فریدی تمہاری ذہانت کو سلام "آواز تھرلیسیا کی تھی۔ " تم نے ذیرو لینڈ کے دانت کھٹے کردیئے۔ ہمارے ہی ہتھیار ہم پر ہی آزماتے ہو۔ ہماری راہ کے صرف دو ہی ستون ہیں۔ کرنل فریدی اور علی عمران۔ اگلی مرتبہ اجل کے فرشتے سے ملاقات کرنا۔ "
فریدی نے ڈیپارٹمنٹل کو رپورٹ پیش کردی۔ حمید، انور، ریکھا تو ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوچکے تھے مگر قاسم ہاسپٹل سے جانے کو تیار نہ تھا۔ نرسوں کو روپ میں یلا یلیاں جو نصیب ہو گئ تھیں۔ فریدی کہ رہا تھا۔ مجھے چند مہینے پہلے ہی خبر لگ چکی تھی کہ کوئی بڑی کاروائى ہونے والی ہے۔ ہمارے ممنوعہ علاقے ( Restrected Areas) میں جہاں خفیہ قید خانوں میں موسٹ کرمنل عمر قید کی سزائیں بھگت رہے ہیں۔ زیرو لینڈ کے ایجنٹ اپنی ٹاپ ہستیوں کا پتہ لگانے کے لیے نیکر اور ٹی شرٹ والے روبوٹ اس علاقے میں چھوڑے تھے جو اے آئی ٹیکنالوجی کے حامل تھے۔ ناکامی کے بعد زیرو لینڈ نے بطور عبرت میری بہترین ٹیم کو نشانہ بنایا جارہا۔ جب کہ میں ٹیم کی ہر ممبر سے محبت کرتا ہوں۔ " نہ جانے ریکھا کیوں شرما گئی۔ اور حمید مسکرانے لگا۔ ریکھا نے سوال کیا۔ "آپ نے اس روبوٹ کو کیسے ناکارہ بنایا؟ " روبوٹ لڑکا میز پر بے جان پڑا تھا۔ "پش فائر " سے ۔ " فریدی نے جواب دیا جو میں نے جہنم کا شعلہ والے کیس میں ڈاکٹر سلمان سے حاصل کیا تھا۔ اب یہ روبوٹ ناکارہ ہوچکا ہے۔ ہماری کرنسی میں ایسا روبوٹ بنانے کے لیے سات کروڑ خرچ ہوں گے"۔ فریدی بولا۔ " وارئٹی فور تھا۔ " فریدی نے روبوٹ کا ایک پیر اٹھایا اور تلوار دکھایا جس پر باریک حروف میں "وارائٹی فور " لکھا تھا۔ ریکھا کے منہ سے اچانک نکلا "فریدی از گریٹ"۔
" نو۔ نو۔ گاڈ از گریٹ " فریدی مسکرایا۔

