اہل غزہ بے سروسامانی کی حالت میں تنہا ہی دشمن کو جواب دے رہے ہیں اسلامی دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جو اہل غزہ کی مدد کیلۓ صہیونی درندوں کے مقابلے کیلۓ سامنے آۓ اور ظالم کو ظلم سے روکے ۔ لے دے کر لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی ہیں لیکن انکے حملوں اور مزاحمت سے دشمن کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔ حوثیوں کے معمولی حملوں سے بوکھلا کر امریکہ اور برطانیہ جیسی طاقتیں فوراً اسرائیل کی ہمدردی میں سامنے آجاتی ہیں اور یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرتی ہیں ۔ لیکن یہی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ نہتے ، مظلوم اور دہائیوں سے محصور اہل غزہ کے قتل عام کو روکنے کیلۓ کوئی ملک انکے حق میں کھڑا ہو ۔
الحمدللہ اتنی تباہی و بربادی دیکھنے کے باوجود اہل غزہ کا ایمانی جوش اور دینی حمیت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے بمباری سے مکان زمیں بوس ہو گیا، کھلے آسمان کے نیچے ملبے پر تہی دست بیٹھے ہیں لیکن چہرے پر ملال کی کوئی علامت نہیں بلکہ ایسی مسکان سجی ہے جس سے اکثر آزاد ممالک کے آسودہ حال افراد بھی محروم ہوتے ہیں ۔ بھکمری کی حالت ہے ، سحری و افطاری میں جو بھی روکھی سوکھی مل جاۓ شکر ادا کرتے ہیں لیکن روزہ ترک نہیں کرتے ۔ مکانات کے ملبوں پر نماز ادا کرتے ہیں، نماز ترک نہیں کرتے ۔ غرض اہل غزہ دہائیوں سے اسرائیلی ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں، اپنی استعداد بھر مزاحمت کرتے ہیں، لیکن اپنے آس پاس مسلم ممالک اور انکے اقتدار پرست سربراہان سے کوئی امید نہیں رکھتے ۔
جنگ بدر حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قیادت میں اسی ماہ مبارک میں لڑی گئ ۔ تین سو تیرا صحابیوں کے مقابل ہزار کی تعداد میں کفار کا لشکر موجود تھا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دعا کی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلۓ ملائکہ کا لشکر اتارا اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی ۔ غزہ میں بھی چند ہزار فلسطینی مجاہدین فرسودہ ہتھیاروں سے لاکھوں تندرست و توانا اور وحشی صہیونی افواج کا اللہ پر یقین کامل رکھتے ہوۓ مقابلہ کر رہے ہیں ، کیا ایسی صورت حال میں ہم وہاں غیبی مدد کی امید نہیں کر سکتے ؟
کہتے ہیں کہ افغانستان میں غیبی مدد آئی تھی ۔ افغانی مجاہدین نے دو مرتبہ دو سوپر پاور ممالک کو پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے ۔ پہلی مرتبہ اسوقت جب دنیا دو قطبی ہوا کرتی تھی ۔ روس اور امریکہ سوپر پاور تھے ۔ اسوقت امریکہ نے پاکستان کی مدد سے افغانی مجاہدین کی خوب مدد کی جس کے بل بوتے پر افغانی مجاہدین روس کو اپنے ملک سے پسپائی اختیارکرنے پرمجبور کرسکے ۔ دوسری مرتبہ اسوقت جب دنیا یک قطبی ہوگئ اور روس سوپر پاور کے مرتبے سے محروم ہوگیا اور امریکہ تنہا سوپر پاور رہ گیا لیکن اس مرتبہ روس نے افغانی مجاہدین کی کھل کر مدد کی اور امریکہ کو افغانستان سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کردیا ۔
تحریر کا حاصل یہ ہیکہ افغانیوں نے دونوں مرتبہ کسی اور ملک کی مدد سے فتح حاصل کی ۔ یعنی دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے اس مقولے کے مصداق دونوں مرتبہ دشمن کے دشمن سے مدد حاصل کرکے ان کو پسپا کیا ۔ اسکے علاوہ یہاں غیبی مدد کا عمل دخل بھی بتایا گیا ہے، واللہ اعلم بالصواب ۔
اب غازہ پٹی اور فلسطینیوں کے معاملے پر نظر ڈالتے ہیں تو یہاں ہمیں کسی دوسرے ملک کی علی الاعلان ، نڈر و بےخوف مدد نظر نہیں آتی نہ ہی کسی غیبی مدد کا اشارہ ملتا ہے بلکہ تن تنہا بے سروسامانی کی حالت میں فلسطینی مجاہدین ہی دشمن سے لوہا لیتے نظر آتے ہیں ، اس صورتحال میں تو فلسطینی اور بھی مجبور و مظلوم دکھائی دیتے ہیں جو دنیاوی امداد کے ساتھ ہی غیبی مدد سے بھی محروم نظر آتے ہیں! ایسی صورت میں ہمیں یہاں غیبی مدد کی امید اور اسکا نزول برحق نظر آتا ہے ۔
ان شااللہ ۔


