درس و تدریس ایک مشکل مرحلہ ضرور ہے لیکن دلچسپ بھی ہے۔ معلّم کے لیے اس عمل کو انجام دینا ذہنی صلاحیتوں کا کار بند رہنا فعال ثابت ہوتا ہے۔ تدریس میں آسانیاں پیدا کرنا طلبہ کی ذہنی نشو ونما کو ملحوظ رکھنا ہوتا ہے۔ نت نئی تکنیک کے ذریعے معلم اپنے تعلیمی مشن میں کامیابی پالیتا ہے۔
درس و تدریس کے دوران کمرۂ جماعت پر ذہنی برتری کو حاصل کرنے کے لیئے تحریک (Motivation )اولین شاهراه (super Highway) ہے۔ تحریک سے آموزش کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ طلبہ میں آموزش عمل کو موثر عمل سے منظم کرنے کا اہم عنصر ہے۔ تحریک(Motivation ) لاطینی زبان کا لفظ ہے جو (Movers) سے اخذ کیا ہے جس کے معنی ہے (to move) متحرک ہونا۔
آموزش عمل میں دو قسم کے محرکات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
۱- مثبت محرکات
(Positive Incentives)
۲-منفی محرکات
( Negative Incentives)
کمرہ جماعت میں طلبہ کو تحریک دینا ضروری ہے۔ تاکہ ان کی ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما ہو سکے - کمرۂ جماعت میں معلم دوران تدریس مختلف قسم
سے تحریک (Motivation) کا استعمال کر لیتا ہے۔ مثلاً: انعام، تعریف، مقابلہ آرائی اور باہمی تعاون competition and) co-operation) ، مالی تعاون، ذہنی تناؤ سے گریز کرنا، ذاتی عظمت( self respect) کو بیدار کرنا، سماجی انعام (social reward) اور سمعی و بصری وسائل( Audio-visiual Aids ) کا استعمال کر کے تدریس کو موثر بنانا۔
درج بالا تحریکات کا استعمال کر کے طلبہ کی شخصی صلاحیتوں میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ تحریک (Motivation) سے طلبہ میں مطالعہ کے شوق کو ترغیب دی جا سکتی ہے۔ اور معلّم کا تعلیم دینے کا عمل کامیابی سے ہم کنار ہو سکتا ہے۔
