مدراس - موصولہ خبروں کے مطابق مدراس ہائی کورٹ نے جی عبدالخادر ابراہیم بمقابلہ پولیس کمشنر اور دیگر کے معاملے میں کہا کہ مسلمان پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران داڑھی رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہائی کورٹ نے 1957 کے مدر اس پولیس گزٹ کا حوالہ دیا۔ عدالت نے کہا کہ 1957 کے مدر اس پولیس گزٹ کے مطابق تمل ناڈو میں مسلمان پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی کے دوران بھی صاف داڑھی رکھنے کی اجازت ہے۔ جسٹس ایل وکٹوریہ گوری نے کہا کہ ہندوستان متنوع مذاہب اور رسم و رواج کا ملک ہے۔ پولیس کا محکمہ اپنے مسلمان ملازمین کو ان کے مذہبی عقائد کے مطابق داڑھی رکھنے پر سزا نہیں دے سکتا ۔ 5 جون کے حکم نامے میں کہا گیا کہ مذکورہ بالا اصول(مدراس پولیس گزٹ کے) اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اجاگر کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو ڈیوٹی کے دوران بھی صاف ستھری داڑھی رکھنے کی اجازت ہے۔ ہندوستان متنوع مذاہب اور رسم و رواج کا ملک ہے، اس سر زمین کی خوبصورتی اور انفرادیت شہریوں کے عقائد اور ثقافت کے تنوع میں مضمر ہے۔ 2018 میں ، کانسٹیبل کو مکہ کی مذہبی زیارت کے لیے 31 دن کی چھٹی دی گئی تھی۔ واپس آنے کے بعد انہوں نے پاؤں میں انفیکشن کی وجہ سے چھٹی میں توسیع کی درخواست کی۔ اسٹنٹ کمشنر نے انہیں اضافی چھٹی دینے سے انکار کر دیا اور اس کے بجائے کانسٹیبل سے اس کی داڑھی کے بارے میں سوال کیا۔ 2019 میں، ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے داڑھی رکھنے والے کا نسٹیبل پر وضاحت طلب کی تھی۔ جسے مدراس پولیس گزٹ کے حکم کے خلاف بتایا گیا تھا۔ جس کے بعد کا نسٹیبل کے خلاف دو الزامات عائد کیے گئے۔ ایک داڑھی رکھنے اور دوسر ا 31 دن کی چھٹی کے بعد ڈیوٹی پر واپس نہ آنے اور تقریباً 20 دن کی طبی چھٹی مانگنے پر ۔سال 2021 میں ڈی سی پی نے حکم دیا کہ کانسٹیبلوں کی تنخواہ میں اضافہ تین سال کے لیے روک دیا جائے۔ اس کے بعد کا نسٹیبل نے پولیس کمشنر کے خلاف اپیل دائر کی، جس نے سزا میں ترمیم کی اور بغیر مجموعی اثر کے دو سال کے لیے انکریمنٹ کو روک دیا۔ کانسٹیبل نے اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جس نے اسے 5 جون کو راحت ملی ۔جس کے بعد عدالت نے سزا کو منصفانہ نہ مانتے ہوئے کمشنر کا حکم نامہ منسوخ کر دیا۔
بشکریہ شا منا مہ ۔۔مالیگاؤں
