کھام گاؤں (واثق نوید) 28 جولائی بروز اتوار ٹیپوسلطان ہال میں صبح 10:30 سے جماعت اسلامی ہند کھام گاؤں نے سہ ماہی تزکیہ کیمپ کا انعقاد کیا جس میں مہمان خصوصی محمد ظفر انصاری (سیکریٹری حلقہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹرا) شریک تھے
پروگرام کا آغاز حافظ عتیق الرحمن (مقامی ناظم مجلس العلماء تحریک اسلامی ہند کھام گاؤں ) کے درس قرآن سے ہوا ۔
درس کے بعد "اقامت دین کے لئے مطلوبہ قربانی اور میرا رول "اس عنوان کے تحت مذاکرہ ہوا جس میں مصدق حسین شرجیل نورالسحر ۔طوبیٰ تحریم۔صداقت علی خان ۔سلیم اختر نے حصہ لیا ۔
مذاکرہ کے بعد "کیا مسافر تھے " اس عنوان پر محمد ظفر انصاری نے رہنمائی فرمائی اور ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کیسے سخت ترین حالات میں بھی وہ استقامت ، صبر ،حوصلہ اور اللہ پر یقین کے ساتھ ڈٹے رہے۔ تقریر کے بعدنشست اول کا اختتام ہوا۔ اس نشست کی کنوینر شپ سلیم اختر نے بحسن خوبی انجام دی.
نماز ظہر و طعام کے بعد محترمہ عشرت انجم (ضلعی ناظمہ jih بلڈانہ نارتھ )کے درس حدیث سے دوسری نشست شروع ہوئی محترمہ نے صبر پر حدیث پیش کی صبر کے فوائد اور ملنے والے اجر کا تذکرہ کرتے ہوئے عمدہ مثالوں سے سمجھایا۔ اس کے بعد "میرے خوابوں کا مرکز " جماعت اسلامی کھامگاؤں کے مرکز کی تعمیر کے متعلق پاورپائنٹ پریزینٹیشن کے ذریعے عمیر احمد خان (امیر مقامی جماعت اسلامی کھام گاؤں )نےمرکز کی تعمیر کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ
یہ مسجد, مسجد نبوی کی طرز پر رہے گی ان شاء اللہ، جو بہترین تربیت گاہ ،دواخانہ ،خدمت خلق،کانسلنگ سینٹر، یک سالہ عالمی کورس(خواتین کے لئے)،غریب و قابل بچوں کے لئے عمدہ لائبریری، بلا سودی بینک، وغیرہ سے لیس رہے گی تاکہ امت کے ہر مسئلے کو حل کیا جائے ۔
بعدازاں دور حاضر میں مطالعہ کی اہمیت و ضرورت اس عنوان پر تنویر احمد نے مختلف مثالوں کے ذریعے روشنی ڈالی۔ اس کے بعد سہیل فرقان (ناظم ضلع جماعت اسلامی ہند بلڈانہ نارتھ ) نے "تحریکی نظم ضبط و اطاعت امیر "اس عنوان پر قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل و پر مغز رہنمائی فرمائی ۔آخر میں "دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا "اس عنوان پر محمد ظفر انصاری نے دل کو چھو لینی والی مثالیں دیکر رہنمائی فرمائی۔
محمد ظفر انصاری کی دعا پر تزکیہ کیمپ کا اختتام ہوا .
دوسری نشست کی کنوینر شپ ذوالفقار حسین نے عمدہ انداز میں کی ۔۔اس کیمپ میں تقریبا"200مرد و خواتین حاضر تھے۔
بعد نماز مغرب ضیاء کالونی مسجد میں ظفر انصاری کا خطاب عام رکھا گیا تھا ۔


