جلگاؤں (شیخ زیان احمد) : یوں تو ملک عزیز میں ہر منٹ خواتین، نوجوان اور معصوم بچّیاں جنسی درندگی کا شکار ہورہی ہیں لیکن گزشتہ کچھ واقعات نے بھارت کے ہر بھلے مانس کے دلوں کو دہلا دیا ہے۔
جس کے لیے بھارت میں مختلف مقامات پر الگ الگ انداز میں ہر اچھے شہری اور تنظیموں نے خاطیوں کی گرفتاری اور سزا کے لیے مطالبہ اور احتجاج بھی کیا ہے جو ہنوز جاری ہے۔ناری سمّان والے بھارت میں خواتین پر جنسی مظالم ملک عزیز کی ساکھ کو مسدود کرنے والے ہیں۔
ایک طرف بھارت کی بیٹیاں اولمپک میں ملک کا نام روشن کررہی ہیں اور دوسری طرف یہ انسانیت سوز مظالم ہر شہری کو پریشان کئے ہوئے ہیں۔
جماعت اسلامی ہند اپنے قیام کے بعد سے ہی معاشرہ میں امن و سلامتی، ملک کی ترقی اور بھلائی کے لیے کوشاں اور سرگرم عمل رہتی ہے۔ ملک جاری جنسی تشدد بالخصوص کولکاتہ اور بدلاپور کے واقعات کےخلاف جماعت اسلامی ہند،جلگاؤں کی خواتین وِنگ نے زبردست احتجاج کیا.
اور ضلع کلکٹر ڈاکٹر آیوش پرساد کے ذریعہ حکومت کو محضر کے ذریعہ خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی پرزور اپیل کی۔ اس موقع پر نسرین خان(خواتین وِنگ کی مقامی ناظمہ)، شبانہ دیشمکھ، خورشید باجی، نازیہ کھاٹک، صالحہ شاہ، ذاکرہ خان، نجمہ باجی، فرزانہ دیشمکھ، نسیم باجی، نازیہ دیشمکھ، سعیدہ باجی، ثمینہ باجی(GIO), عمّارہ تسنیم، اور نور صبا باجی موجود تھے۔ اس وقت جماعت کے ذمہ داران میں سے محمد سمیع صاحب، شیخ مشتاق احمد (امیر مقامی)، شیخ فرید سر، شیخ تاج الدین اور شفقت سر موجود تھے۔
تصویر میں
ضلع کلکٹر ڈاکٹر آیوش پرساد کو مکتوب سونپتے ہوئے جماعت اسلامی کی خواتین ساتھ میں دیگر ذمہ داران دیکھے جاسکتے ہیں۔
