مالیگاؤں۔ پچھلے دنوں تنظیم علماء ائمہ وحفاظ شہر کی جانب سے جو اقدامات کیے گئے اور سیاسی میدان میں ہونے والی برائیوں کے خلاف جو آواز اٹھائی گئی،
شہر کے اکثر وبیشتر افراد نے اس کی تحسین کی اور اسے وقت کی اہم ضرورت بتایا،
البتہ اس سلسلے میں ایک دو مضامین اورویڈیو بیانات ایسے سامنے آئے جس سے یہ تأثر ابھرتا ہے کہ تنظیم کے اقدامات کسی سیاسی شخصیت کی حمایت پر مبنی ہیں،
تنظیم کی جانب سے یہ واضح کیا جاچکا ہے، اب ایک مرتبہ پھر یہ واضح کیا جارہا ہے کہ تنظیم کے کارکنان نے اپنا شرعی فریضہ سمجھتے ہوئے منکرات پر نکیر کی ہے، ہم نہ کسی سیاسی پارٹی کے حامی ہیں اور نہ مخالف، سیاسی لیڈران کا جو کام ہے سو وہ کریں، البتہ جہاں کہیں شرعی اعتبار سے کوئی منکر پایا جائے گا اور ہمارے علم میں آئے گا ہم اس پر نکیر بھی کریں گے اور اسے روکنے کی حتی الامکان کوشش کریں گے۔
ان شاء اللہ الرحمن۔
سوشل میڈیا پر ایک مفصل مضمون بھی وائرل ہورہا ہے جس میں ایک سیاسی لیڈر اور ان کی پارٹی کے کارکنان کی چند خرابیاں بیان کرکے یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان برائیوں کی کوئی نکیر نہیں کی گئی، حالانکہ یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوچکا۔
ہوچکا، اب علمائے کرام اجتماعی طریقے پر میدان میں آچکے ہیں اورجہاں کہیں کوئی شرعی منکر پایا جائے گا اس پر روک ٹوک کی جائے گی، یہ بھی المیہ ہے کہ سیاسی حضرات اپنی اصلاح کے بجائے اصلاحی کوششوں کو سیاسی رنگ دے کر انہیں کمزور کرتے ہیں یا ایسا رخ اور رویہ اختیار کرتے ہیں جو نہ ان کے لیے مناسب ہے اور نہ اصلاحی کوششوں کے لیے مفید ہے، ایسے تمام حضرات کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ وہ لمبے چوڑے مضامین لکھنے کے بجائے اپنی خامیوں پر توجہ دیں اور جہاں کہیں کوئی غیر شرعی کام ہورہا ہو اسے روکنے کے لیے آگے آئیں۔
تنظیم کی مشاورتی نشست میں یہ بات بھی طے ہوئی ہے کہ قریبی مدت میں شہر کے تمام سیاسی لیڈران کو ایک جگہ اکھٹا کرکے ان کے سامنے تحریرا وتقریرا چند گذارشات پیش کی جائیں گی ، اسی طرح اس سلسلے میں مسلسل اصلاحی مضامین بھی لکھے جائیں گے اور سیاسی میدان میں در آنے والی خرابیوں کو مٹانے کے لیے مسلسل پیش رفت کی جائے گی ان شاء اللہ ۔
منجانب
صدرو اراکین تنظیم علماء ائمہ وحفاظ شہر، مالیگاؤں
