کھام گاؤں (واثق نوید) گستاخ رسول رامگیری مہاراج نے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے خلاف دیے گئے تبصرے کے باعث جلگاؤں جامود میں مسلم سماج کی جانب سے آج شدید احتجاجی جلوس نکالا گیا۔
اس جلوس کے نتیجے میں رامگیری مہاراج کے خلاف مقامی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں مہاراج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ و سلم کے بارے میں بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے مسلم مذہب پر تنقید کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم سماج میں عورتوں پر ظلم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے آئیڈیل ظلم کرنے والے ہیں۔ ساتھ ہی، مہاراج نے ہندو سماج کو بیدار ہونے کی اپیل کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جس گاؤں میں دس ہزار ہندو اور سو مسلمان ہوں وہاں مسلمان محفوظ ہوتے ہیں، لیکن جہاں دس ہزار مسلمان اور سو ہندو ہوں، وہاں ہندو محفوظ ہوتے ہیں یا نہیں، اس طرح کے سوالات اٹھائے۔
ان بیانات کی وجہ سے مسلم سماج کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، مولوی خلیل الرحمان کی شکایت پر رامگیری مہاراج کے خلاف BNS کی دفعہ 299 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ مولوی صاحب نے الزام لگایا کہ رامگیری مہاراج نے جان بوجھ کر ہندو اور مسلم سماج کے درمیان تناؤ پیدا کرنے کی نیت سے یہ بیان دیا ہے۔ ان کے اس بیان کی وجہ سے بے شمار مسلم بھائیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس موقع پر مولوی خلیل الرحمان کے ساتھ مسلم مذہبی، سیاسی رہنما اور بے شمار مسلم نوجوان موجود تھے۔
