کھام گاؤں (واثق نوید) 18 فروری بروز منگل ادارہ ادب اسلامی ہند پوسد کے زیر اہتمام ایک تعزیتی نشست بیاد تابش مہدی اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا اس مشاعرے کی صدارت عبدالغفار خان آتش نے کی نظامت کے فراٸض جواں سال شاعر اسرار دانش نے بحسن و خوبی انجام دئیے ۔ابتدا میں خان حسنین عاقب نے تابش مہدی کی رحلت پر اظہارتعزیت کیا اور انکی ادبی خدمات پر مختصرََا روشنی ڈالی بعد ازاں ثاقب شہاب نے رضی الاسلام ندوی کا تحریر کیا ہوا مضمون پیش کیا۔اسکے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا اس مشاعرے میں ثاقب وفا،عباد ساگر ، مجاہد سیفی ،ثاقب شہاب، اسرار دانش، نظیر آفتاب، غلام احمد ،ریاض احمد ریاض رضوی خان حسنین عاقب اور عبدالغفار آتش نے اپنے معیاری کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔تمام شعرا کو دادوتحسین سے نوازا گیا۔اسرار دانش کے اظہار تشکر کے ساتھ مشاعرے کا اختتام ہوا
مدعو شعرا کا منتخب کلام
شعر تجھ کو سنانے لگے ہیں
ہم ہنر آزمانے لگے ہیں
اک دو پل کی تھی بس ملاقات
بھولنے میں زمانے لگے ہیں
(ثاقب وفا)
تیرے دکھ کے دوا ہے میرے پاس
دیکھ ذکر خدا ہے میرے پاس
ہے کٸ رنگ تیرے چہرے پر
آٸینے کی ادا ہے میرے پاس
(عباد ساگر)
لکھتا ہے جب قلم میرا شان کریم میں
ہوتے ہیں سارے حرف معطر شمیم میں
اسلام میں ملا ہمیں تو اور ترا حبیب
اللہ کے الف میں محمد کے میم میں
(مجاہد سیفی)
یہ شہر دل اجڑ جانے سے پہلے
بہارستاں تھا ویرانے سے پہلے
مکان دل کی گنجاٸش بھی دیکھی
حسیں خوابوں کو ٹہرانے سے پہلے
(ثاقب شہاب)
جس دن تو اعتبار کے مرکز سے ہٹ گیا
فہرست دوستاں سے ترا نام کٹ گیا
کاتب نے جس پہ لکھا تھا خوشیاں نصیب ہوں
ہم سے کتاب زیست کا وہ صفحہ پھٹ گیا
(اسرار دانش)
بظاہر سامنے اچھے بہت تھے
مرے دشمن مرے اپنے بہت تھے
میں اپنے حق میں کیا دیتا گواہی
مصاحب کان کے کچے بہت تھے
(نذیر آفتاب)
ہمارا جو ہے تمہارا مقام تھوڑی ہے
تمہارا اتنا زمانے میں نام تھوڑی ہے
عمر کے عدل نے انصاف کو جلا بخشی
تمہارے دور میں ایسا نظام تھوڑی ہے
(غلام احمد خان)
زر کا نہیں کوئی مکاں کبھی یہاں کبھی وہاں
یہ دھوپ چھاوں ہے میاں کبھی یہاں کبھی وہاں
مصیبتیں مسرتیں یہ حسرتیں یہ دردوغم
ہے ان میں تیرا امتحاں کبھی یہاں کبھی وہاں
(ریاض احمد ریاض)
ہم اداکاری کا اک نام محبت سمجھے
اور کچھ لوگ محبت کو حقیقت سمجھے
یہ جو سیلاب ہے اِس کا بھی اترنا طٸے ہے
اس سے پہلے تو کناروں کا بکھرنا طٸے ہے
(خان حسنین عاقب)
وہ ہی دیتا ہے مصیبت میں سہارے مجھ کو
اس نے بخشے ہیں اندھیروں میں اجالے مجھ کو
میں تو خوشبو ہوں محبت کی زمانے والو
جس میں ہمت ہو فضائوں سے نکالے مجھ کو
(عبدالغفار خان آتش)
