معروف ادیبہ، شاعرہ اور صحافی محترمہ علیزے نجف کی تازہ تصنیف "کیا ہم زندہ ہیں؟" محض ایک سوال نہیں، بلکہ ایک طویل فکری سفر کی دعوت و ترغیب ہے۔۔ یہ کتاب انسانی نفسیات کے پیچیدہ کٹھن راستوں پر نہایت ہی عمدگی سے روشنی ڈالتی ہے، جہاں ذہنی الجھنیں، جذباتی اتار چڑھاؤ اور روحانی خلا کے سوالات ہمارے منتظر ہیں۔ یہ کتاب ہمیں زندگی کے ہنگاموں میں رک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم واقعی زندہ ہیں، یا صرف جینے کے عمل کو یوں ہی دہرا رہے ہیں؟
مصنفہ نے نہایت مہارت سے مسائل حل کرنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی کی قوت، اور عادتوں کی طاقت کو انسان کی شخصیت سازی کے بنیادی ستونوں کے طور پر پیش کیا ہے۔ کتاب کے مختلف ابواب میں انسانی ذہن کی گہرائیوں کو کھنگالا گیا ہے، جہاں سوچنے کے نئے زاویے، خود شناسی کے راستے اور شخصیت کو بہتر بنانے کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ نفسیاتی صحت کی دیکھ بھال اور روحانی ذہانت کو بیدار کرنے کے عملی راستے بھی فراہم کرتی ہے۔ مصنفہ نے نہایت خوبصورتی سے یہ سمجھایا ہے کہ ذہنی سکون محض بیرونی حالات کی تبدیلی سے نہیں آتا بلکہ یہ ایک داخلی سفر ہے جس میں انسان اپنے جذبات، خیالات اور رویوں پر قابو پانا سیکھتا ہے۔ "کیا ہم زندہ ہیں؟" ایک ایسا آئینہ ہے جو مخفی زاویے کے ساتھ ہمیں ہماری اصل حقیقت دکھاتا ہے۔ مصنفہ کا طرزِ تحریر سادہ مگر گہرا ہے، جو قاری کے دل و دماغ کو جھنجھوڑتا ہے اور انہیں اپنی زندگی کے فلسفے پر ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔۔ ہر صفحہ ایک نیا سوال پیدا کرتا ہے اور ہر سوال کے ساتھ قاری کو اپنے اندر جھانکنے کی ترغیب ملتی ہے۔۔
یقیناً یہ کتاب ایک فکری تحفہ ہے جو ہر قاری کے لیے نئے زاویے کھولتی ہے، ایک ایسا فکری تجربہ جو نہ صرف ذہن کو بیدار کرتا ہے بلکہ روح کو بھی جِلا بخشتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف پڑھنے کے قابل ہے بلکہ بار بار پڑھنے اور ہر بار نئے معانی تلاش کرنے کے قابل ہے۔ "کیا ہم زندہ ہیں؟" صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک فکری بیداری کی صدا ہے جو ہر دل تک پہنچنی چاہیے۔۔
آصف جلیل احمد
مالیگاؤں
