19 اگست 1983 کو جلگاؤں میں آنکھیں کھولنے والے وسیم عقیل شاہ کے تعلق سے کس نے سوچا تھا وہ ایک دن اپنے ہی علاقے کے افسانہ نگاروں پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلیں گے؟
آج وہی دن تھا. ممبئی یونیورسٹی کے وسیم عقیل شاہ کے مقالے "خاندیش کے افسانہ نگاروں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" پر مَیں بھی وائیوا میں آن لائن شامل تھا. دانشوروں کے ساتھ ساتھ میں نے بھی کچھ سوالات ان سے کئے اور تسلّی بخش جواب پاکر ناز کیا کہ میرے دوست نے واقعی اپنے موضوع کے لئے محنت کی ہے.
ان سے ترقی پسندی اور خاندیش کے افسانہ نگاروں کے تعلق سے سوال ہوا، علامت نگاری پر سوال ہوا، طویل عرصے تک خاندیش کی فضا میں افسانہ نگاروں کی عدم موجودگی پر سوال ہوا نیز ان کے موضوع سے متعلق دیگر قسم کے مزید سوالات کئے گئے اور خوشی کا مقام یہ رہا کہ آپ نے ہر ہر سوال کا نہایت تسلی بخش جواب دیا.
جس کا نتیجہ رہا کہ ہم تمام حاضرین کی موجودگی میں ممبئی یونیورسٹی کی جانب سے محترم وسیم عقیل شاہ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کرنے کا اعلان کر دیا گیا.
میں اپنی جانب سے، شہر مالیگاؤں کے تمام افسانہ نگاروں کی جانب سے ڈاکٹر وسیم عقیل شاہ کو اس موقع پر بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اور دعا گو ہوں کہ اللہ آپ پر علم و ادب کے دروازوں کو بہ آسانی کھولتا رہے اور دنیا و آخرت کی تمام کامیابیوں سے سرفراز کرے.





