شاید کے ووٹر کے دل میں اتر جاۓ میری بات انتخابات آتے رہیں گے، جاتے رہیں گے — ایمان اور ضمیر کا سودا نہ کریں از قلم محمد سرور شریف ابن یوسف شریف پر بھنی 9960451708
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 12, 2026
0
share
قارئین جیسا کے آپ دیکھ رہیں کے صبح سے لے کر شام تک ہر گلی ، ہر چوراہے پر بلدیہ عظمیٰ ( مہا نگر پالیکا ) انتخابات کے لیے تشہری مہم اپنے عروج پر ہے اور ہر پارٹی امیدوار ہر قیمت پر یہ الیکشن جیتنا چاہتا ہے اور سنا ہے عوامی محفلوں میں ابھی سے ووٹ کی فروخت کے چرچے اور اس کی قیمت کے حساب لگاۓ جارہے ہیں گزشتہ دنوں بلدیاتی الیکشن میں ووٹ کی فروخت کے حساب سے بلدیہ عظمی ( مہا نگر پالیکا) انتخابات میں ووٹ کی قیمت کا انداز اور حساب لگایا جارہا لہذا بحیثیت مسلمان اور ایک ذمداری شہری میں نے یہ ضروری سمجھا کے اس برائی کو روکنے اپنے حصہ کا کردار ادا کروں اس امید کے ساتھ کہ شاید کے ووٹر کے دل میں اتر جاۓ میری بات قارئین انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اقتدار کبھی مستقل نہیں رہا۔ حکومتیں بنتی اور بکھرتی رہیں، عہدے اور عہدے دار بدلتے رہے ہیں ،مگر جو چیز مسلمان کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے اور اس کی پہچان بنتی ہے وہ اس کا ایمان، ضمیر ، کردار اور اچھے اخلاق ہیں ۔ انتخابات جمہوری نظام کا ایک اہم حصہ ضرور ہیں، لیکن یاد رکھیں وہ کسی بھی حال میں ایمان اور ضمیر سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتے۔ مختلف شوشل میڈیا پلٹ فارم اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ مختلف واقعات کی روشنی میں یہ بات سامنے آرہی ہے کے ہماری ریاست مہاراشٹر اور شہر عزیز میں جیسے جیسے مہانگر پالیکا انتخابات قریب آرہے ہیں تو لالچ، خوف، مفاد اور وقتی فائدے کی بنیاد پر لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشیشیں تیز ہوتی جارہی ہیں ۔ کچھ لوگ اپنے ذاتی اور وقتی فائدے اور اقتدار کے حصول کے لیے اپنے اصول، اقدار ،سچائی اور اپنے ایمان اور قوم و ملت کے اجتماعی مفاد کا سودا کر ر ہے ہیں، مگر وہ لوگ یہ بات بھول رہے ہیں کہ اقتدار کے ایوان اور یہ عہدے عارضی ہوتے ہیں جبکہ ایمان اور ضمیر انسان کے ساتھ قبر تک جاتے ہیں۔ لہذا ہمیں چاہیے کے ہم اپنے ایمان اور ضمیر کی آواز پر ووٹ دیں کیوں کہ ووٹ ایک امانت ہے اور امانت میں خیانت نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ قانونی جرم بھی یے اور یہ عمل سماجی بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کے ایمان انسان کو حق اور باطل میں تمیز سکھاتا ہے، جبکہ ضمیر اسے غلط راستے پر چلنے سے روکتا ہے۔ جب یہی دو نعمتیں کمزور پڑ جائیں تو معاشرہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اصولوں پر قائم رہتی ہیں، نہ کہ وہ جو وقتی مفادات کے پیچھے دوڑتی ہیں۔ اس لیے ہماری تمام ووٹر مرد و خواتین سے عاجزانہ درخواست ہے کے وقتی فائدے کے لیے اپنے ایمان اور ضمیر کا سودا نہ کریں قارئین ہمیں معلوم ہونا چاہیے کے مہا نگر پالیکا انتخابات عام شہری کی روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ صفائی، پانی، سڑکیں، روشنی، صحت اور دیگر بنیادی سہولتیں عوام تک پہنچانا انہی انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والے نمائندوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔ اسی لیے ہمیں اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کیوں کے ووٹ دینا ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔اور ووٹ دراصل ایک امانت اور گواہی بھی ہے کہ ہم کس شخص کو اپنے شہر اور اپنے مستقبل کے لیے موزوں سمجھتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انتخابی وعدے عارضی ہوتے ہیں، مگر ایمان کی آزمائش اور اس کے بعد حاصل ہونے والی نعمتیں مستقل ہوتی ہیں۔ اقتدار چند برسوں کا ہوتا ہے، مگر غلط فیصلوں کے اثرات برسوں تک باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے ایک ایماندار اور باشعور شہری کی پہچان یہی ہے کہ وہ چند روپیوں اور پیسوں کی خاطر اپنے ایمان اور ضمیر کا سودا نہیں کرتابلکہ اصولوں پر قائم رہتا ہے۔ قارئین مختصر یہ کے انتخابات آتے رہیں گے، جاتے رہیں گے، مگر ایمان اور ضمیر اگر سلامت رہیں تو انسان سرخرو رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ووٹ دیتے وقت وقتی فائدے کے بجائے دائمی اور آخرت کے فائدے کو سامنے رکھیں کرسی اور اقتدار کے بھوکے اور لالچی امیدواروں کے لیے اپنی ہمیشہ ہمیشہ کی آخرت خراب نہ کریں سچ، دیانت اور کردار کو ترجیح دیں، کیونکہ اصل کامیابی اقتدار میں نہیں بلکہ اخلاقی بلندی اور ایمانداری میں ہے۔ ووٹ ضرور دیں لیکن پیسے لے کر نہیں اپنا شرعی اور دستوری حق سمجھ کر اپنے شہر کی ترقی کے لیے ووٹ دیں اس امید کے ساتھ کے سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا