آکولہ ، صدام حسین نے ایک بار پھر صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا مہا ٹی ای ٹی میں دوہری و تاریخی کامیابی تعلیمی حلقوں میں ستائش، نوجوان اساتذہ اور طلبہ کے لیے عملی مثال
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 19, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) تعلیمی میدان میں مسلسل محنت، یکسوئی اور علمی استقامت ہی پائیدار کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے، اور ضلع پریشد اردو مڈل اسکول پنج، تعلقہ آکوٹ، ضلع اکولہ سے وابستہ معلم صدام حسین سر نے اس حقیقت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے MAHA TET جیسے مشکل اور مسابقتی امتحان میں دونوں پیپر نمایاں نمبروں سے کامیاب ہو کر ضلع اکولہ کے تعلیمی منظرنامے میں ایک قابلِ ذکر کامیابی درج کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدام حسین سر نے پیپر اول میں 150 میں سے 117 نمبر جبکہ پیپر دوم میں 148 میں سے 101 نمبر حاصل کیے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق مہا ٹی ای ٹی ، میں دونوں پیپر ایک ساتھ کامیابی کے ساتھ عبور کرنا غیر معمولی صلاحیت، مضبوط تعلیمی بنیاد اور مستقل تیاری کا متقاضی ہوتا ہے، جس کا عملی مظاہرہ صدام حسین سر کی کارکردگی سے ہوتا ہے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ صدام حسین سر کی تعلیمی شناخت محض اس کامیابی تک محدود نہیں۔ وہ 2008 کی سی سی ٹی ، میں مہاراشٹر کے سر فہرست رہ چکے ہیں، جو ان کی ذہانت اور امتحانی مہارت کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ مولانا آزاد اردو نیشنل یونیورسٹی، حیدرآباد کے بی ایڈ انٹرنس امتحان میں 93 فیصد نمبروں کے ساتھ آل انڈیا فرسٹ رینک حاصل کرنا ان کے تعلیمی سفر کا ایک اہم سنگِ میل مانا جا رہا ہے۔
ان کی یہ کامیابی ضلع اکولہ کے اردو تعلیمی حلقوں میں حوصلہ افزا قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اساتذہ کی کامیابیاں نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کرتی ہیں بلکہ نوجوان اساتذہ اور طلبہ کو محنت، منصوبہ بندی اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ صدام حسین سر آج ضلع اکولہ کے ان اساتذہ میں شمار کیے جا رہے ہیں جنہوں نے مسلسل تعلیمی جدوجہد کے ذریعے ایک مضبوط مثال قائم کی ہے، اور ان کی کامیابی اردو میڈیم کے تعلیمی وقار میں اضافے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔