ہدایت اللہ خاں پٹیل - عبادت گاہ میں بہایا گیا خون مساجد کے تقدس پر حملہ ازقلم:- نجیب الرحمن خان (مہاراشٹر )
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 07, 2026
0
share
مساجد اسلام کی روح، ایمان کی علامت اور مسلمانوں کے لیے امن، سکون اور عبادت کی سب سے مقدس جگہ ہیں۔ مسجد وہ مقام ہے جہاں بندہ دنیاوی جھمیلوں سے الگ ہو کر اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور نماز کے ذریعے اپنے دل کو نورِ ایمان سے منور کرتا ہے۔ اسی لیے مسجد کا ادب و احترام ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس کے تقدس کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ سورۃ البقرة- آیت نمبر 114 میں ارشاد فرماتا ہے: وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنۡ يُّذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ وَسَعٰـى فِىۡ خَرَابِهَا ؕ ۞ ترجمہ: "اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کو ن ہو گا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے در پے ہو؟ " حال ہی میں ہدایت اللہ خان پٹیل موہالہ، تعلقہ اکوٹ ،ضلع اکولہ کے ساتھ مسجد میں پیش آنے والا دلخراش واقعہ پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ مرحوم ہدایت اللہ خان پٹیل 6 جنوری کو ظہر کی نماز کے بعد مسجد میں معمول کے مطابق تلاوت اور ذکر و اذکار میں مشغول تھے کہ اچانک ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔ اس اندوہناک واقعے کے باوجود انہوں نے غیر معمولی حوصلہ و ہمت کا مظاہرہ کیا، خون میں لت پت مسجد سے باہر نکلے، طویل فاصلہ طے کیا، پانی پیا، بائک پر بیٹھ کر دواخانہ پہنچے، پھر اکوٹ اور بعد ازاں اکولہ کے اوزون اسپتال منتقل کیے گئے۔ ڈاکٹروں نے بھرپور کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ کو انہیں اپنے پاس بلانا تھا۔ دوسرے دن نماز فجر کے بعد وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ دورانِ علاج عوام الناس بلا تفریق مذہب ملت تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی جماعتوں کے قائدین و کارکنان بڑی تعداد میں عیادت کے لیے اسپتال پہنچے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل غمگین، کیونکہ ہم نے ایک ایسے شخص کو کھو دیا جو مشفق، غریبوں کا مسیحا، متحرک قائد، بااخلاق، باکردار اور صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا۔ ان کے انتقال پر پورے ملک میں غم و اندوہ کی فضا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ مسجد کے تقدس، مذہبی آزادی اور سماجی امن پر حملہ ہے۔ مسجد میں اس طرح کی گھناونی حرکت نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ اسلام کی روح کے سراسر خلاف ہے۔ کسی مومن کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ عبادت گاہ کو فساد، تشدد اور خونریزی کا مرکز بنائے۔ ہر انسان اپنی عبادت گاہ میں خود کو محفوظ تصور کرتا ہے، وہاں اسے سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ کے نزدیک سب سے محبوب مقامات مساجد ہیں” (مسلم) چند احادیث کا مفہوم ہے: “جس نے مسجد میں کسی کو تکلیف دی، اس نے اللہ کے ولی کو تکلیف دی”۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں مسجد کے آداب نہایت سختی سے بیان کیے گئے ہیں؛ وہاں آواز بلند کرنا، جھگڑا کرنا یا کسی کو اذیت پہنچانا سخت گناہ ہے، اور خون کا ایک قطرہ بھی بہانا ناقابلِ برداشت جرم ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا سماج بیدار ہو، ہم مساجد کے تقدس کی حفاظت کے لیے متحد ہوں، نفرت، تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کریں۔ انتظام و رہنمائی کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور یہ پیغام عام کریں کہ مسجد امن کی علامت ہے، فساد کی نہیں۔ آخر میں ہم بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں: اللہ رب العزت مرحوم ہدایت اللہ خان پٹیل کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔(آمین) یا رب العالمین