رمـضـان الـمـبـارک میں کرنےکےکام تحریر:شیخ طریقت حضرت مولانا محمّد عــــمـرین مـــحـــفـــوظ رحــمــانی صاحب دامت برکاتہم (سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ)
Author -
personحاجی شاھد انجم
فروری 22, 2026
0
share
رمضان المبارکﷲ تعالی کی طرف سے اہل ایمان کے لئے عظیم تحفہ ہے، خوش نصیب ہیں وہ مومن بندے اور بندیاں جو رمضان کی مبارک ساعتوں کابھرپور استعمال کر کے ﷲ تعالیٰ کی رضا، اس کاقرب ،اور نجات ومغفرت کاتحفہ حاصل کرتے ہیں، اورمحروم ہیں وہ لوگ جو رمضان المبارک کے قیمتی دنوں اورراتوں کو ضائع کر کے اپنے آپ کو تباہی اور بربادی سے دوچار کر دیتے ہیں، رمضان المبارک میں جن کاموں کو اہتمام سے انجام دیناچاہئے انہیں اختصار کے ساتھ یہاں درج کیا جا رہا ہے۔
۱)رمضان المبارک کی جو سب سے اہم خصوصیتﷲ پاک نے بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں قرآن پاک نازل کیا گیا ہے،شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ(سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۵)یہ آیت بتاتی ہے کہ قرآن پاک اور رمضان المبارک کاخاص تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ رمضان المبارک میں حضرت جبرئیل ؑ کے ساتھ قرآن پاک کا دورفرماتے تھے،
اس اسوۂ حسنہ میں اہل ایمان کے لئے یہ سبق ہے کہ وہ بھی رمضان المبارک کے دنوں اورراتوں میں قرآن پاک کی خوب خوب تلاوت کریں، ہمارے اکابر اور اسلاف رمضان المبارک میں قرآن پاک کی اتنی تلاوت فرماتے تھے کہ ان میں سے بعض روزانہ قرآن پاک ختم فرماتے،رمضان المبارک میں تلاوت کی کثرت کے ساتھ اس بات کابھی خیال رکھیں کہ جب بھی قرآن پاک کی تلاوت کاارادہ کریں تو یہ دعا کریں کہ اےﷲ میں آپ کا پاک کلام تلاوت کرنے جارہاہوں، آپ مجھے ہر حرف پر رمضان المبار ک کی نیکیوں میں سے سات سو نیکیاں عطا فرما دیجئے۔اےﷲ!اس تلاوت کے ذریعے میرے دل کے زنگ کو دور کردیجئے،اے پاک پروردگار !اس تلاوت کے ذریعہ میرے د ل میں آپ کی محبت بڑھادیجئے۔ قرآن مجید سے جڑاہواعمل تراویح بھی ہے، اس بات کااہتمام کرناچاہئے کہ اہتمام ، اخلاص، اور پوری توجہ کے ساتھ تراویح پڑھی جائے اور ایسی مسجد میں تراویح ادا ہو جہاں حافظ صاحب قرآن پاک کے حقوق کالحاظ کر کے تلاوت کرتے ہوں،ایسی مسجد تلاش کرکے تراویح پڑھنا جہاں قرآن پاک جلدی جلدی بلارعایت حقوق پڑھاجاتاہو،قرآن پاک کی بے حرمتی ہے اور رمضان المبارک کی نا قدری! ۲)رمضان المبارک کاروزہﷲ تعالیٰ نے فرض فرمایا ہے :ٰٓیاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ(سورہ بقرہ آیت ، ۱۸۳) روزہ ا س لحاظ سے بڑا اونچا عمل ہے کہ اس میں صبر کی تربیت ہے، غور کیا جائے تومعلوم ہوتاہے کہ صبر اور تقویٰ دنیا اورآخرت میں کامیابی کی شاہ کلید ہیں،ﷲ پاک کا ارشاد ہے :وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا(سورہ ٔ آل عمران آیت نمبر ۱۲۰)(اگر صبر اور تقویٰ کی راہ اختیار کرو گے تو ان (تمہارے دشمنوں)کا مکر تمہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہونچاسکے گا)اس طرح یہ بھی ارشادہے کہ :’’ﷲ پاک متقی بندوں کے ساتھ ہے‘‘اور یہ بھی کہ ’’صبرکرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا‘‘یہ دونوں عظیم الشان صفات روزے میں موجود ہیں،صبر اس طور پر کہ روز ے دارانسان صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانےپینےاوردوسری خواہشات سےرکارہتاہے ،اور تقویٰ اس طور پر کہ حلال چیزوں سے رک کر حرام چیزوں اور ناجائز کاموں سے رکنے کی تربیت ملتی ہے۔روزہ رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزے کی حالت میں بھوکے پیاسے رہ کر صبر اور تقویٰ کی صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں، ایسانہ ہوکہ روزہ رکھ کر حلال چیزوں سے تو احتیاط کی جائے اور زبان، آنکھ ،دل اورہاتھ پیر سے حرام کام انجام پاتے رہیں۔ ۳)رمضان المبارک کاایک اہم عمل دعا بھی ہے، قرآن پاک کی سورہ بقرہ میں جہاں رمضان المبارک کی اہمیت اور روزے کی فرضیت کا بیان ہے وہیں یہ بھی ارشاد ہے کہ وَ اِذَاسَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْب ٌاُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ (سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۶) (اورجب آپ ﷺ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو کہہ دیجئے کہ میں قریب ہوں،میں دعا کرنے والوں کی دعاقبول کرتاہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے)اس آیت میں درحقیقت اشارہ اس طرف بھی ہے کہ رمضان کے دنوں اور راتوں میںﷲتعالیٰ کے آگے ہاتھ پھیلایا جائے،اس کے آگے عاجزی کی جائے، اس سے اپنی ضروریات کاسوال کیاجائے،اور اس احساس کے ساتھ سوال کیا جائے کہ ﷲ قریب ہے اور وہ دعا کرنے والوں کی حاجت روائی فرماتاہے جو مانگنے کاسلیقہ ہے مانگ کردیکھو درِ کریم سے بند ے کو کیا نہیں ملتا حدیث شریف میں رمضان المبارک میں جنت مانگنے اور جہنم سے پناہ طلب کرنے کی تاکید کی گئی ہے،اس لئے اور دعاؤں کے علاوہ اس کا بھی خاص اہتمام کیا جائے،بہتر ہے کہ سحری میں آدھاپون گھنٹہ پہلے بیدار ہوکر تہجد کی چند رکعات پڑھ لی جائیں،اوراسی قبولیت اورقرب کے وقت میں اہتمام سے دعاکی جائے ﷲ پاک ان باتوں پر عمل کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے(آمین)