معذوری کو شکست ، بستر تک محدود نوجوان بنا ڈیجیٹل ٹیم لیڈر 300 نوجوانوں کی تربیت ، ماہانہ 50 ہزار روپئے کی کمائی ، صحت مند نوجوانوں کے لیے قابل تقلید کارنامہ
Author -
personحاجی شاھد انجم
اپریل 21, 2026
0
share
حیدرآباد ( سیاست نیوز ) جسمانی طور پر صحت مند نوجوان اکثر معمولی مشکلات کو بہانا بناکر پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ لیکن عادل آباد کے 27 سالہ وینکٹ رمنا کی کہانی ان کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اصل طاقت جسم میں نہیں بلکہ حوصلے میں ہوتی ہے۔
وینکٹ رمنا پیدائشی طور پر اوسٹیو جینیسیس اپرفیکٹا ( ہڈیوں کی بیماری ) میں مبتلا ہیں وہ نہ چل سکتے ہیں نہ بیٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے روزمرہ کے کام خود انجام دے سکتے ہیں۔ زندگی کا بیشتر حصہ بستر پر گزارنے کے باوجود انہوں نے ہار نہیں مانی ۔ ان کے والدین سریکھا اور سنتوش کمار سرکاری ٹیچرس ہیں اور دادی نے انہیں گھر پر تعلیم دی ۔ جس کے بعد انہوں نے اسکرائب کے ذریعہ اوپن اسکول کے تحت دسویں جماعت میں کامیابی حاصل کی ۔ یہیں سے وینکٹ رمنا نے اپنی زندگی کا رخ بدلنے کا فیصلہ کیا ۔ ایک ہاتھ سے موبائل چلانا سیکھا ۔ میز پر لیٹ کر موبائل اسٹانڈ کے ذریعہ آن لائن AI ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس کیا اور خود کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا ۔ آج وہ ایک ایجنسی میں ٹیم لیڈر ہے اور ماہانہ 50 ہزار روپئے سے زائد کما رہے ہیں وہ گوگل میٹ کے ذریعہ 300 سے زیادہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل سرویس کی تربیت بھی دے رہے ہیں ۔ کرکٹ کمنٹری سن کر انہوں نے انگریزی زبان سیکھی جو ان کی پیشہ وارانہ کامیابی میں مددگار ثابت ہوئی۔ ان کی کامیابی صرف ان کی ذاتی جیت نہیں ہے بلکہ تمام نوجوانوں کے لیے سبق ہے جو مواقع ہونے کے باوجود محنت سے گریز کرتے ہیں ۔ وینکٹ رمنا نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میں چل نہیں سکتا ۔ بیٹھ نہیں سکتا لیکن میں نے کبھی اپنے حوصلے کو کمزور ہونے نہیں دیا ۔ اگر میں اس حالت میں کچھ کرسکتا ہوں تو آپ تو مجھ سے کہیں زیادہ کرسکتے ہیں۔ وقت ضائع نہ کریں ۔ موبائل کو صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کیلئے استعمال کریں ۔ مشکلات کو بہانے نہیں بلکہ کامیابی کی سیڑھی بنائیں ۔ وینکٹ رمنا کے والدین سریکھا اور سنتوش کمار نے کہا کہ ہم نے کبھی اپنے بیٹے کی معذوری کو اس کی کمزوری بننے نہیں دیا ۔ ہم نے اسے ہمیشہ حوصلہ دیا اور اس کی اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھا ۔ آج اس کی کامیابی دیکھ کر ہمیں فخر ہے ۔ ہم تمام والدین سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں پر بھروسہ کریں اور انہیں حوصلہ دیں ساتھ ہی ان کی رہنمائی کریں کیوں کہ صحیح سمت مل جائے تو ہر بچہ کچھ نہ کچھ ضرور حاصل کرسکتا ہے ۔ وینکٹ رمنا کی جدوجہد اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ کامیابی کا دار و مدار وسائل پر نہیں بلکہ عزم ، محنت اور مثبت سوچ پر ہوتا ہے ۔ یہ کہانی ہر صحت مند نوجوان کیلئے ایک آئینہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور زندگی میں کچھ بڑا کرنے کا عہد کریں ۔۔