انقلاب کرناٹک کی حجاب پسند طالبہ مسکان خان کرناٹک حکومت کے فیصلے پربے حد خوش ہیں ، انہیں یہ امید ہے کہ اب وہ اپنی شناخت اور اپنے حجاب کے ساتھ بی کام فائنل ایئرکا امتحان پاس کرکے اپنا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر کر سکیں گی۔ انقلاب, ممبئی(سعید احمد خان) کرناٹک کی حجاب پسند طالبہ مسکان خان کرناٹک حکومت کے فیصلے پربے حد خوش ہیں ، انہیں یہ امید ہے کہ اب وہ اپنی شناخت اور اپنے حجاب کے ساتھ بی کام فائنل ایئر کا امتحان پاس کرکے اپنا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر کر سکیں گی۔ نمائندہ انقلاب نے مسکان کے والد بشیر خان سے بات چیت کی ۔ بشیر خان نے دورانِ گفتگو بتایاکہ ’’مجھے اپنی بیٹی پر فخر ہے۔ ۲۰۲۲ء میں اس کے ساتھ کالج جانے کے دوران جو کچھ ہوا اورجس طرح اس نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے شرپسندوں کا جواب دیا تھا، وہ نہ صرف ایک علامت بن گئی بلکہ دیگر لڑکیو ں کے لئے رول ماڈل قرار پائی۔ ‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایاکہ’’ ہم اپنی بیٹی کے ساتھ پوری قوت سے کھڑے رہے اور کبھی اس کی حوصلہ شکنی نہیں ہونے دی۔ وہ۲۰۲۲ء کے بعد سے اب تک گھر پر رہ کر اسلامیات کا مطالعہ کرتی رہی اورساتھ ساتھ بی کام کی تیاری بھی جاری رکھی ۔ اس دوران اسے طلبہ کی رہنمائی کیلئے الگ الگ اسکول کالج اور مدارس میں بلایا گیا، پونہ کے اعظم کیمپس میں بھی مدعو کیا گیا۔ اس دوران مسکان نے ہرجگہ یہی پیغام دیا کہ تعلیم کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی جائے، اقراء کا پیغام عام کیاجائے،یہ ضرورت بھی ہے اور مسائل کا حل بھی تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ‘‘بشیر خان نےیہ بھی کہاکہ ’’ شرانگیزی کرنے والوں کو مزید موقع نہ ملے اور ہنگامہ آرائی کے سبب دیگر طلبہ کی تعلیم میں خلل نہ ہواس لئے مسکان کے گھر پر تیاری کرنے کے باوجود بی کام کا امتحا ن دلانے کیلئے مصلحتاً ہم نے قدم آگے نہیں بڑھایا، اب جبکہ حکومت نے پابندی ختم کردی ہے تو مسکان بی کام کا امتحان دیگی۔‘‘ انہوں نے اپنی بیٹی کا یہ َدرد بھی بیان کیا کہ ’’ حجاب پرپابندی کےسبب اس وقت کرناٹک میں تقریباً ۱۸؍ ہزار بچیاں امتحان دینے سے محروم رہ گئی تھیں مگر اب وہ بندش ختم ہوگئی ہے اور امید ہے کہ مسکان جیسی دیگر مسلم طالبات حجاب کے ساتھ تعلیمی میدان میں بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی کی منزل طے کرسکیں گی ۔‘‘