نابینا ہونے کے باوجود سمیک جین نے UPSC میں AIR 7 حاصل کر کے IAS آفیسر بننے کی تاریخ رقم کر دی
Author -
personحاجی شاھد انجم
مئی 15, 2026
0
share
18 سال کی عمر میں بینائی کھو دی، ماں نے امتحان میں لکھا، بیٹے نے UPSC میں AIR 7 حاصل کر لیا
نئی دہلی (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سمیک جین کی کہانی لاکھوں نوجوانوں کے لیے حوصلے اور عزم کی مثال بن چکی ہے۔ یو پی ایس سی سول سروسز امتحان کو دنیا کے مشکل ترین امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن سمیک جین نے ثابت کر دیا کہ مضبوط ارادے کے سامنے جسمانی رکاوٹیں بھی شکست کھا جاتی ہیں۔
دہلی کے رہنے والے سمیک جین کی زندگی عام نوجوانوں کی طرح گزر رہی تھی، لیکن تقریباً 18 سال کی عمر میں انہیں احساس ہوا کہ ان کی بینائی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے بعد میں ان میں آنکھوں کی ایک نایاب بیماری کی تشخیص کی۔ چند ہی برسوں میں، تقریباً 20 یا 21 سال کی عمر تک وہ مکمل طور پر بینائی سے محروم ہو چکے تھے۔
یہ صورتحال کسی بھی نوجوان کے لیے شدید صدمہ ثابت ہو سکتی تھی، لیکن سمیک نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنی کمزوری کو طاقت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی تعلیم و خوابوں کو جاری رکھا۔ سمیک کی کامیابی میں ان کی والدہ وندنا جین کا کردار انتہائی اہم رہا۔ چونکہ سمیک نابینا تھے، اس لیے وہ اپنی پڑھائی کے لیے آڈیو بکس، اسکرین ریڈنگ سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل مواد پر انحصار کرتے تھے۔ تاہم، امتحانات کے دوران تحریری مرحلہ ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔ 2021 یو پی ایس سی مینس امتحان کے دوران ان کی والدہ نے بطور رائٹر ان کی مدد کی۔ سمیک سوالات کے جواب بولتے تھے جبکہ ان کی والدہ انہیں تحریر کرتی تھیں۔ ماں اور بیٹے کی اس غیر معمولی شراکت نے کامیابی کی ایک نئی مثال قائم کی۔ سمیک جین نے اپنی ابتدائی تعلیم دہلی میں حاصل کی اور بعد میں جواہر لال یونیورسٹی Jawaharlal Nehru University سے ایم اے مکمل کیا۔ یو پی ایس سی کی تیاری کے دوران انہوں نے کبھی اپنی معذوری کو بہانہ نہیں بنایا۔ وہ روزانہ کئی گھنٹوں تک آڈیو نوٹس سنتے اور حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے اخبارات کے ڈیجیٹل ورژن استعمال کرتے تھے۔ سمیک کے مطابق جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ان کی تیاری کو بہت آسان بنایا۔ سال 2021 میں اپنی دوسری کوشش کے دوران انہوں نے آل انڈیا رینک 7 حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا اور آئی اے ایس آفیسر بننے کا خواب پورا کیا۔ آج سمیک جین کی کامیابی ان لاکھوں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو معمولی رکاوٹوں سے گھبرا کر اپنے خواب ترک کر دیتے ہیں۔ سمیک کا کہنا ہے کہ اگر انسان اپنے مقصد کے لیے سچی لگن اور محنت رکھتا ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے کامیابی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔