حیدرآباد کے بایونک ہاتھ: زندگیوں کی بحالی، اعتماد کی تعمیر
Author -
personحاجی شاھد انجم
مئی 08, 2026
0
share
آواز دی وائس حیدرآباد (تلنگانہ): آج کی دنیا میں، جہاں جسم کا کوئی عضو کھو دینا کسی شخص کی آزادی کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے، وہاں ٹیکنالوجی اب اس حقیقت کو تبدیل کرنے کے لیے آگے آ رہی ہے۔ حیدرآباد کی ہائی ٹیک سٹی میں ایک جدید اسٹارٹ اپ ایسے کم قیمت بایونک ہاتھ تیار کر رہا ہے جو نہ صرف جسمانی افعال میں مدد دیتے ہیں بلکہ معذور افراد کا اعتماد اور وقار بھی بحال کرتے ہیں۔
ایسی ہی ایک متاثر کن کہانی 24 سالہ وامسی کی ہے۔ 2017 میں بجلی کے ایک افسوسناک حادثے میں انہوں نے اپنا ہاتھ کھو دیا تھا، جس سے ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ مگر آج Makers Hive کے تیار کردہ بایونک ہاتھ کی مدد سے وہ دوبارہ خودمختار زندگی گزار رہے ہیں۔ Makers Hive میں ایگزیکٹو کے طور پر کام کرنے والے وامسی نے بتایا: "2017 میں بجلی کا جھٹکا لگنے کے بعد میرا ہاتھ ضائع ہو گیا تھا۔
میں گزشتہ ڈھائی سال سے یہ بایونک ہاتھ استعمال کر رہا ہوں۔ اب میں روزمرہ کے تمام کام آسانی سے کر لیتا ہوں، جیسے دفتر میں ٹائپنگ، گھر میں سبزیاں کاٹنا، اور یہاں تک کہ موٹر سائیکل چلانا بھی۔" وامسی کا مریض سے پیشہ ور فرد بننے تک کا سفر اب اسی ادارے کا حصہ بن چکا ہے جس نے ان کی زندگی بدلنے میں مدد دی، اور یہ اس ٹیکنالوجی کے انسانی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ اس اختراع کے مرکز میں Makers Hive ہے، جو حیدرآباد کی ایک "ڈیپ ٹیک" کمپنی ہے اور جدید مصنوعی اعضا (prosthetics) پر کام کر رہی ہے۔ ان کی نمایاں پروڈکٹ "KalArm" ایک کم قیمت، ہلکا اور 3D پرنٹڈ "مایو الیکٹرک بایونک ہاتھ" ہے، جسے آسان استعمال اور حسبِ ضرورت تبدیلی کی سہولت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کے بانی اور سی ای او پرنو ویمپتی نے کہا: "میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن سے بے حد متاثر ہوں۔ میں بھی کچھ ایسا بامقصد بنانا چاہتا تھا جو لوگوں کو ان کا وقار اور آزادی واپس دلا سکے۔ KalArm ایک مکمل طور پر فعال اور سستا بایونک ہاتھ ہے، جسے لوگوں کو زندگی میں دوسرا موقع دینے کے مقصد سے بنایا گیا ہے۔" KalArm میں 18 مختلف گرِپ پیٹرنز موجود ہیں، جن کی مدد سے صارف مختلف کام انجام دے سکتے ہیں، جیسے چیزیں پکڑنا، لکھنا اور گھریلو امور سرانجام دینا۔ روایتی مصنوعی ہاتھوں کے مقابلے میں، جو اکثر بہت مہنگے ہوتے ہیں، KalArm کی قیمت 5 لاکھ روپے سے کم ہے، جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ایسے آلات کی قیمت 30 سے 40 لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔ اس کی کم لاگت نے بیرونِ ملک بھی توجہ حاصل کی ہے اور اب دوسرے ممالک سے مریض اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے حیدرآباد آ رہے ہیں۔ رومانیہ کے ایک مریض، رزوان الیگزینڈرو سائمن نے بھی اس ڈیوائس کے استعمال کا تجربہ شیئر کیا، جس سے سستے اور جدید مصنوعی اعضا کی عالمی طلب کا اندازہ ہوتا ہے۔ Makers Hive کی فیکٹری میں ہر بایونک ہاتھ ایک تفصیلی پیداواری عمل سے گزرتا ہے، جس میں ڈیزائن، 3D پرنٹنگ، اسمبلی اور سخت کوالٹی چیک شامل ہوتے ہیں۔ ہر مرحلے میں مضبوطی، درستگی اور صارف کے آرام پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ چیف ٹیکنالوجی آفیسر چانکیا گون نے کہا: "ہمارا مقصد صرف ایک ڈیوائس بنانا نہیں بلکہ لوگوں کی آزادی واپس دلانا ہے۔" حقیقت میں Makers Hive بھارتی اختراع میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں انجینئرنگ اب انسانوں کے حقیقی مسائل حل کرنے پر مرکوز ہو رہی ہے۔ جو ٹیکنالوجی پہلے مہنگی ہونے کی وجہ سے بیرونِ ملک سے منگوانی پڑتی تھی، وہ اب ملک کے اندر تیار ہو رہی ہے، جس سے جدید مصنوعی اعضا ان لوگوں تک بھی پہنچ رہے ہیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ وامسی جیسے صارفین کے لیے اس کا اثر صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کی زندگی دوبارہ حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے سادگی سے کہا: "اب میں اپنے تمام کام خود کر سکتا ہوں۔" حیدرآباد میں ٹیکنالوجی صرف ترقی ہی نہیں کر رہی بلکہ ہر بایونک ہاتھ کے ذریعے لوگوں میں نئی امید بھی جگا رہی ہے۔