ٹی ای ٹی سےمتعلق سماعت کی اجازت، اساتذہ میں خوشی کی لہر
Author -
personحاجی شاھد انجم
مئی 02, 2026
0
share
انقلاب سپریم کورٹ کا ۱۳؍مئی کو سماعت کااعلان۔ ملک بھر کے تقریباً ۲۵؍لاکھ اور مہاراشٹر کے ۳۱؍ہزار ٹیچروں کو راحت ملی۔ ۲؍سال میں ٹی ای ٹی کلیئر کرنےکی شرط عارضی طورپرملتوی ٹیچر ایلجیبلٹی ٹیسٹ ( ٹی ای ٹی) سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر عرضداشتوں پر سماعت کے اعلان سے ملک بھر کے تقریباً ۲۵؍ لاکھ اور مہاراشٹر کے ۳۱؍ہزار اساتذہ کو راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ اگلی سماعت ۱۳؍مئی کو اوپن کورٹ میں کرے گی جس سے ٹیچروں کیلئے ۲؍سال میں ٹی ای ٹی کلیئر کرنے کی شرط عارضی طور پر ٹل گئی ہے۔ واضح رہے کہ یکم ستمبر ۲۰۲۵ء کو سپریم کورٹ نے اساتذہ کیلئے ٹی ای ٹی پاس کرنا لازمی قرار دیا تھاجس کی وجہ سے ملک بھر کے ان اساتذہ میں بے چینی پائی جا رہی تھی جنہوں نے ٹی ای ٹی پاس نہیں کیا ہے۔
ان کیلئے ۳۱؍اگست ۲۰۲۷ء تک ٹی ای ٹی پاس کرنا ضروری ہے۔ اس دوران ٹی ای ٹی پاس نہ کرنے والے اساتذہ ملازمت سے محروم ہوسکتے ہیں ۔ سپریم کورٹ سے اس فیصلے پر نظر ثانی کیلئے ۸؍ ریاستوں سمیت متعدد تعلیمی تنظیموں نے ۴۶؍ عرضداشتیں داخل کی ہیں جن پر ۲۸؍اپریل ۲۰۲۶ء کو سپریم کورٹ کے چیمبرمیں ابتدائی سماعت کی گئی۔
جس کا تحریری فیصلہ ۳۰؍اپریل کو جاری کیا گیا جس کے مطابق سپریم کورٹ نے نظرثانی کی عرضداشتوں پر ۱۳؍مئی کو دوپہر ۲؍بجے اوپن کورٹ میں شنوائی کرنے کی منظوری دی ہے جس سے ان اساتذہ کو راحت ملی ہے جنہوں نے ابھی تک ٹی ای ٹی پاس نہیں کیا ہے۔ اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے قومی جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے انقلاب کو بتایا کہ '' سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی عرضیوں کو اوپن کورٹ میں سماعت کیلئے منظور دے دی ہے۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان عرضیوں کو خارج نہیں کیا گیا بلکہ انہیں اوپن کورٹ میں سماعت کیلئے قبول کیا گیا ہے۔ اوپن کورٹ میں سماعت ہونے سے اب تمام عرضداشت گزاروں کو دوبارہ نوٹس جائیں گی اور اساتذہ کو ۲؍ سال میں ٹی ای ٹی پاس کرنے کی جو ہدایت دی گئی تھی، اس سے انہیں راحت ملی ہے۔ '' انہوں نے یہ بھی بتایا کہ '' مذکورہ ۴۶؍ اپیلوں میں ۸؍ عرضداشتیں مختلف ریاستوں نے کی ہیں جبکہ مہاراشٹر حکومت نے اس تعلق سے عرضداشت داخل نہ کر کے یہاں کے اساتذہ کے بھروسے کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ '' پی ایم شری ضلع پریشد اُردو اسکول پاتھری، پربھنی کے معلم ا قبال انصاری جو گزشتہ ۱۳؍سال سے ٹی ای ٹی گائیڈنس اور ٹیچر بھرتی کیلئے سیکڑوں اُمیدواروں کی رہنمائی کر چکے ہیں، کے مطابق ''ٹی ای ٹی معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے نظر ثانی کی عرضیوں پر اوپن کورٹ میں سماعت کی منظوری لاکھوں اساتذہ کیلئے راحت کا باعث ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عدالت نے اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس کیا ہے اور متاثرہ اساتذہ کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا ہے لیکن ابھی آخری فیصلہ آنا باقی ہے، اس لئے اسے مکمل کامیابی سمجھنا جلد بازی ہوگی۔ جب تک معاملہ پوری طرح حل نہیں ہوتا تب تک تمام برسر روزگار اساتذہ کو دستیاب مواقع ضائع کئے بغیر اپنی تیاری جاری رکھنی چاہئے اور ٹی ای ٹی یا سی ٹی ای ٹی امتحان بھی دیتے رہنا چاہئے تاکہ مستقبل میں حالات جیسے بھی آئیں ان سے نمٹا جاسکے۔'' انہوں نے یہ بھی کہا کہ'' اُمید رکھنا ضروری ہے کہ سپریم کورٹ سے راحت ملے گی مگر تیاری چھوڑنا نہیں چاہئے۔ یہی دانشمندی کا راستہ ہے۔ ''